علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
ترقیم عبدالباقی: 2228 ترقیم شاملہ: -- 5817
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَي بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسُوا بِشَيْءٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتایا کہ انہوں نے عروہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ کچھ نہیں ہیں۔“صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! وہ لوگ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ جنوں کی بات ہوتی ہے، ایک جن اسے (آسمان کے نیچے سے) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست (کاہن) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے۔ اور وہ اس (ایک) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5817]
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔" لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسول! وہ بعض اوقات سچ بات بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ جن سے حاصل کردہ بول ہوتا ہے، جن اسے اچک لیتا ہے اور اسے اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے، جس طرح مرغ، قرقر کر کے مرغیوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس میں سو سے زائد جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3210
| الملائكة تنزل في العنان وهو السحاب فتذكر الأمر قضي في السماء فتسترق الشياطين السمع فتسمعه فتوحيه إلى الكهان فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم |
صحيح البخاري |
6213
| تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة |
صحيح البخاري |
5762
| تلك الكلمة من الحق يخطفها من الجني فيقرها في أذن وليه فيخلطون معها مائة كذبة |
صحيح البخاري |
7561
| تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني فيقرقرها في أذن وليه كقرقرة الدجاجة فيخلطون فيه أكثر من مائة كذبة |
صحيح مسلم |
5816
| تلك الكلمة الحق يخطفها الجني فيقذفها في أذن وليه ويزيد فيها مائة كذبة |
صحيح مسلم |
5817
| تلك الكلمة من الجن يخطفها الجني فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة |
Sahih Muslim Hadith 5817 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق