صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5820
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قال: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّهُ: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: الْحَقَّ، وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
اوزاعی، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر یونس نے کہا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور بڑھاتے ہیں۔“اور یونس کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اونچا لے جاتے ہیں (مبالغہ کرتے ہیں) اور بڑھاتے ہیں۔“یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں حق کہا۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5820]
امام صاحب یہی روایت اپنے اساتذہ کی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں، اوزاعی کی روایت ہے، ”لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ یونس کی حدیث ہے، ”لیکن وہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اور اضافہ کرتے ہیں۔“ اور یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے، وہ پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا، وہ کہتے ہیں، جو کہا ٹھیک کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
معقل بن عبيد الله العبسي ← محمد بن شهاب الزهري