الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب حكم إطلاق لفظة العبد والامة والمولى والسيد:
باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5874
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي، وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي ".
لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5874]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے، میرا بندہ، میری باندی، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری ساری عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، لیکن یہ کہو، میرا غلام، میری لونڈی، میرا نوکر، میری خادمہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5874]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2552
| لا يقل أحدكم أطعم ربك وضئ ربك اسق ربك وليقل سيدي مولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي وفتاتي وغلامي |
صحيح مسلم |
5877
| لا يقل أحدكم اسق ربك أطعم ربك وضئ ربك ولا يقل أحدكم ربي وليقل سيدي مولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي فتاتي غلامي |
صحيح مسلم |
5874
| لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي كلكم عبيد الله وكل نسائكم إماء الله ولكن ليقل غلامي وجاريتي وفتاي وفتاتي |
صحيح مسلم |
5875
| لا يقولن أحدكم عبدي فكلكم عبيد الله ولكن ليقل فتاي ولا يقل العبد ربي ولكن ليقل سيدي |
سنن أبي داود |
4975
| لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي ولا يقولن المملوك ربي وربتي وليقل المالك فتاي وفتاتي وليقل المملوك سيدي وسيدتي فإنكم المملوكون والرب الله |
صحيفة همام بن منبه |
85
| لا يقل أحدكم اسق ربك أو أطعم ربك وضئ ربك ولا يقل أحدكم ربي وليقل سيدي ومولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي فتاتي غلامي |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5874 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5874
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عبيد:
عبد کی جمع ہے،
بندہ،
اماء،
امة کی جمع ہے،
باندی۔
فوائد ومسائل:
حدیث کا مقصد،
انسان کو کبر و نخوت اور تکبر و بڑائی کے غرہ میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے اور اس کے اندر،
تواضع،
فروتنی،
عجز و نیاز پیدا کرنا ہے،
اس لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے،
جو انسان کے اندر احساس تفوق اور برتری پیدا کر سکتے ہیں،
جن کے نتیجہ میں اس کے اندر نخوت اور گھمنڈ یا خود پسندی کا جذبہ اُبھر سکتا ہے،
اس لیے انسان کو خود،
اپنے غلام اور لونڈی کو میرا غلام،
میری لونڈی نہیں کہنا چاہیے،
ہاں خود غلام اور لونڈی یہ کہہ سکتے ہیں،
أنا عبدك،
میں تیرا غلام ہوں،
أنا اَمَتُك،
میں تیری باندی ہوں اور دوسرے کہہ سکتے ہیں،
عَبَدُكَ أَمَتُك،
تیرا غلام،
تیری لونڈی۔
مفردات الحدیث:
عبيد:
عبد کی جمع ہے،
بندہ،
اماء،
امة کی جمع ہے،
باندی۔
فوائد ومسائل:
حدیث کا مقصد،
انسان کو کبر و نخوت اور تکبر و بڑائی کے غرہ میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے اور اس کے اندر،
تواضع،
فروتنی،
عجز و نیاز پیدا کرنا ہے،
اس لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے،
جو انسان کے اندر احساس تفوق اور برتری پیدا کر سکتے ہیں،
جن کے نتیجہ میں اس کے اندر نخوت اور گھمنڈ یا خود پسندی کا جذبہ اُبھر سکتا ہے،
اس لیے انسان کو خود،
اپنے غلام اور لونڈی کو میرا غلام،
میری لونڈی نہیں کہنا چاہیے،
ہاں خود غلام اور لونڈی یہ کہہ سکتے ہیں،
أنا عبدك،
میں تیرا غلام ہوں،
أنا اَمَتُك،
میں تیری باندی ہوں اور دوسرے کہہ سکتے ہیں،
عَبَدُكَ أَمَتُك،
تیرا غلام،
تیری لونڈی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5874]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2552
2552. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ تو اپنے رب (مالک) کوکھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کوپانی پلا بلکہ یوں کہے: اے میرے سردار!اے میرے آقا! اور کوئی تم میں سے یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہے: میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2552]
حدیث حاشیہ:
رب کا لفظ کہنے سے منع فرمایا۔
اسی طرح بندہ بندی کا تاکہ شرک کا شبہ نہ ہو، گو ایسا کہنا مکروہ ہے حرام نہیں جیسے قرآن میں ہے ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
بعضوں نے کہا پکارتے وقت اس طرح پکارنا منع ہے۔
غرض مجازی معنی جب مراد لیا جائے غایت درجہ یہ فعل مکروہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ علماءنے عبدالنبی یا عبدالحسین ایسے ناموں کا رکھنا مکروہ سمجھا ہے اور ایسے ناموں کا رکھنا شرک اس معنی پر کہا ہے کہ ان میں شرک کا ایہام یا شائبہ ہے۔
اگر حقیقی معنی مراد ہو تو بے شک شرک ہے۔
اگر مجازی معنی مراد ہو تو شرک نہ ہوگا مگر کراہیت میں شک نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں۔
کیوں کہ جہاں شرک کا وہم ہو وہاں سے بہر حال پرہیز بہتر ہے۔
خاص طور پر لفظ ''عبد '' ایسا ہے جس کی اضافت لفظ اللہ یا رحمن یا رحیم وغیرہ اسماءالحسنی ہی کی طرف مناسب ہے۔
توحید و سنت کے پیروکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ غیراللہ کی طرف ہرگز اپنی عبدیت کو منسوب نہ کریں۔
إیاک نعبد کا یہی تقاضا ہے۔
واللہ هو الموفق
رب کا لفظ کہنے سے منع فرمایا۔
اسی طرح بندہ بندی کا تاکہ شرک کا شبہ نہ ہو، گو ایسا کہنا مکروہ ہے حرام نہیں جیسے قرآن میں ہے ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
بعضوں نے کہا پکارتے وقت اس طرح پکارنا منع ہے۔
غرض مجازی معنی جب مراد لیا جائے غایت درجہ یہ فعل مکروہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ علماءنے عبدالنبی یا عبدالحسین ایسے ناموں کا رکھنا مکروہ سمجھا ہے اور ایسے ناموں کا رکھنا شرک اس معنی پر کہا ہے کہ ان میں شرک کا ایہام یا شائبہ ہے۔
اگر حقیقی معنی مراد ہو تو بے شک شرک ہے۔
اگر مجازی معنی مراد ہو تو شرک نہ ہوگا مگر کراہیت میں شک نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں۔
کیوں کہ جہاں شرک کا وہم ہو وہاں سے بہر حال پرہیز بہتر ہے۔
خاص طور پر لفظ ''عبد '' ایسا ہے جس کی اضافت لفظ اللہ یا رحمن یا رحیم وغیرہ اسماءالحسنی ہی کی طرف مناسب ہے۔
توحید و سنت کے پیروکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ غیراللہ کی طرف ہرگز اپنی عبدیت کو منسوب نہ کریں۔
إیاک نعبد کا یہی تقاضا ہے۔
واللہ هو الموفق
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2552]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2552
2552. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ تو اپنے رب (مالک) کوکھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کوپانی پلا بلکہ یوں کہے: اے میرے سردار!اے میرے آقا! اور کوئی تم میں سے یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہے: میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2552]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس لفظ کا استعمال اس لیے منع ہے کہ حقیقی ربوبیت تو صرف اللہ کو لائق ہے، لہذا یہ لفظ مخلوق میں سے کسی کے لیے استعمال نہ کیا جائے لیکن قرآن کریم میں اضافت کے ساتھ یہ لفظ غیراللہ کے لیے استعمال ہوا ہے جیسا کہ ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
جس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں نہی تحریمی نہیں۔
واللہ أعلم (2)
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ اگر عبدي اور أمتي کے الفاظ میں بد اخلاقی اور تکبر پایا گیا تو ان کا استعمال مکروہ ہے اور اگر محض تعریف مراد ہو تو یہ الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 223/5)
بہرحال آقا کو چاہیے کہ وہ اپنے غلام اور لونڈی کو پکارتے وقت فخر اور غرور سے پرہیز کرے، اسی طرح غلام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آقا کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن میں اللہ کی تعظیم جیسا اظہار ہو۔
(1)
اس لفظ کا استعمال اس لیے منع ہے کہ حقیقی ربوبیت تو صرف اللہ کو لائق ہے، لہذا یہ لفظ مخلوق میں سے کسی کے لیے استعمال نہ کیا جائے لیکن قرآن کریم میں اضافت کے ساتھ یہ لفظ غیراللہ کے لیے استعمال ہوا ہے جیسا کہ ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
جس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں نہی تحریمی نہیں۔
واللہ أعلم (2)
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ اگر عبدي اور أمتي کے الفاظ میں بد اخلاقی اور تکبر پایا گیا تو ان کا استعمال مکروہ ہے اور اگر محض تعریف مراد ہو تو یہ الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 223/5)
بہرحال آقا کو چاہیے کہ وہ اپنے غلام اور لونڈی کو پکارتے وقت فخر اور غرور سے پرہیز کرے، اسی طرح غلام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آقا کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن میں اللہ کی تعظیم جیسا اظہار ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2552]
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي