صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب في معجزات النبي صلى الله عليه وسلم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2281 ترقیم شاملہ: -- 5946
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لیے آیا، آپ نے اسے آدھا وسق (تقریباً 120 کلو) جو دیے تو وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اس نے ان کو ماپ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور ماجرا بتایا) تو آپ نے فرمایا:”اگر تم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ (سلسلہ) تمہارے لیے قائم رہتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5946]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آدھا وسق جو دیے تو اس سے وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا مہمان کھاتے رہے، حتیٰ کہ اس نے اس کو ماپ لیا، (تو وہ ختم ہوگیا) سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کو نہ ماپتے تو اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے لیے باقی رہتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2281
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5946 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5946
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر کسی کی دعا کے نتیجہ میں کسی کے غلہ میں برکت پیدا ہو جائے یا کسی اور چیز میں برکت ہو جائے تو اس کی کرید کی جستجو نہیں کرنا چاہیے،
کیونکہ یہ تسلیم و رضا اور توکل کے منافی ہے،
اس کے ماپ کی بنا پر،
برکت اٹھ گئی،
اگر وہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کرتا تو غلہ برقرار رہتا۔
فوائد ومسائل:
اگر کسی کی دعا کے نتیجہ میں کسی کے غلہ میں برکت پیدا ہو جائے یا کسی اور چیز میں برکت ہو جائے تو اس کی کرید کی جستجو نہیں کرنا چاہیے،
کیونکہ یہ تسلیم و رضا اور توکل کے منافی ہے،
اس کے ماپ کی بنا پر،
برکت اٹھ گئی،
اگر وہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کرتا تو غلہ برقرار رہتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5946]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري