🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5941
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا، میں (اپنی آنکھوں سے) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5941]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو آپ کے پاس ایک کھلا پیالا لایا گیا تو لوگ وضو کرنے لگے، میں نے اندازہ لگایا،وہ ساٹھ اور اسی کے درمیان تھے۔ اور میں پانی کو دیکھنے لگا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5941]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5942
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انہیں نہ ملا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا۔ کہا: تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک (اس سے) وضو کر لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5942]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ عصر کی نماز کا وقت قریب آ چکا تھا، لوگوں نے پانی تلاش کیا اور وہ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا، سو آپ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو اس سے وضو کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا، پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا ہے، لوگ وضو کرنے لگے حتیٰ کہ آخری فرد تک نے وضو کر لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5943
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ، قَالَ: وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ، وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ: كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِ مِائَةِ ".
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (مقام) زوراء میں تھے (اور زوراء مدینہ میں مسجد اور بازار کے نزدیک ایک مقام ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کر لیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوحمزہ! اس وقت آپ کتنے آدمی ہوں گے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تین سو کے قریب تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5943]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھی زوراء مقام پر تھے (اور زوراء مدینہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے) آپ نے پانی کا پیالہ طلب کیا اور اس میں آپ نے اپنی ہتھیلی رکھ دی تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا سو آپ کے تمام ساتھیوں نے وضو کرلیا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں، میں نے پوچھا،اے ابوحمزہ! ان کی تعداد کتنی تھی؟ جواب دیا، وہ تین سو کے قریب تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5944
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ بِالزَّوْرَاءِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ.
سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے، آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، وہ آپ کی انگلیوں کے اوپر تک بھی نہیں آتا تھا (جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں) یا اس قدر تھا کہ (شاید) آپ کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا۔ پھر ہشام کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5944]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زوراء جگہ پر تھے تو پانی کا ایک برتن لایاگیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا وہ آپ کی انگلیوں کو چھپانے کے بقدر تھا، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2280 ترقیم شاملہ: -- 5945
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتْا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَصَرْتِيهَا؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں بطور تحفہ کے گھی بھیجا کرتی تھیں، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی، تو اس میں گھی ہوتا۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا۔ ایک بار ام مالک نے (حرص کر کے) اس کپی کو نچوڑ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا تم نے اس کو نچوڑ لیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی (اور ضرورت کے وقت لیتی) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5945]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے ایک کپہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی کا تحفہ دیتی تھیں،اس کے بیٹے اس کےپاس آکر سالن مانگتے اور ان کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو وہ اس کپہ کا رخ کرتی، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیتی تھیں تو اس میں گھی پاتی،وہ کپہ ہمیشہ اس کے گھر کا سالن مہیا کرتا رہا حتیٰ کہ اس نے اس کو نچوڑلیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا تو نے اسے نچوڑ لیا ہے؟ اس نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے چھوڑدیتی تو ہمیشہ سالن ملتارہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5945]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2281 ترقیم شاملہ: -- 5946
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لیے آیا، آپ نے اسے آدھا وسق (تقریباً 120 کلو) جو دیے تو وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اس نے ان کو ماپ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور ماجرا بتایا) تو آپ نے فرمایا:اگر تم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ (سلسلہ) تمہارے لیے قائم رہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5946]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آدھا وسق جو دیے تو اس سے وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا مہمان کھاتے رہے، حتیٰ کہ اس نے اس کو ماپ لیا، (تو وہ ختم ہوگیا) سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کو نہ ماپتے تو اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے لیے باقی رہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2281
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 706 ترقیم شاملہ: -- 5947
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا، حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاء، قَالَ: فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟، قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، قَالَ: وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ، أَوَ قَالَ غَزِيرٍ شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا، قَالَ: حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ".
ہمیں ابوعلی حنفی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں مالک بن انس نے ابوزبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابوطفیل عامر بن واثلہ نے انہیں خبر دی، انہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بتایا، کہا: کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا (اس لیے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے (اپنے جانوروں اور آدمیوں کو) پانی پلانا شروع کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہا اٹھے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5947]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں کو جمع کرتے تھے، آپ نے ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں اور مغرب وعشاء کو جمع کیا، حتیٰ کہ آپ نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اورظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا، پھر اپنے خیمےمیں داخل ہوگئے، پھر اس کے بعد نکلے اور مغرب وعشاء کو جمع کیا، پھر فرمایا، تم کل ان شاء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جاؤ گے اور تم اس پردن چڑھے ہی پہنچو گے تو تم میں سے جو اس پر پہنچے،میرے پہنچنے سے پہلے اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے، ہم اس پر پہنچے تو ہم سے پہلے دو آدمی پہنچ گئے تھے اور چشمہ میں تسمہ کی مانند تھوڑا تھوڑا پانی بہہ رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا، کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایاہے؟ انہوں نے کہا، جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا، سخت سست کہا اوراللہ کو جو منظورتھا، انہیں کہا،پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے چشمہ سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالا، حتیٰ کہ وہ کس چیز میں جمع ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر پانی اس چشمے میں لوٹا دیا تو چشمہ سے پانی جوش یا کثرت سے نکلنے لگا، حتیٰ کہ لوگوں نے (پی لیا اور) پلایا اورپھر فرمایا: اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!قریب ہے،اگر تجھے لمبی عمر ملی تو تم یہاں کے علاقہ کو باغوں سے بھرا ہوا دیکھو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5948
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْرُصُوهَا، فَخَرَصْنَاهَا، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ: أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ، فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا، كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ فَقَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ، دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَنَا آخِرًا، فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا، فَقَالَ: أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ ".
سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ (غزوہ تبوک) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ وادی القریٰ (شام کے راستے میں مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اندازہ لگاؤ اس باغ میں کتنا میوہ ہے؟ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جب تک ہم لوٹ کر آئیں تم یہ (اندازہ) گنتی یاد رکھنا، اگر اللہ نے چاہا۔ پھر ہم لوگ آگے چلے، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی، لہذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور (وادی) طے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔ ابن العلماء حاکم ایلہ کا ایلچی ایک خط لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر تحفہ لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی۔ پھر ہم لوٹے، یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا کہ کتنا نکلا؟ اس نے کہا پورا دس وسق نکلا۔ (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جاؤں گا، لہذا تم میں سے جس کا دل چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے اور جس کا دل چاہے ٹھہر جائے۔ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دیکھائی دینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ طابہ ہے (طابہ مدینہ منورہ کا نام ہے) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بنی نجار کے گھر بہترین ہیں (کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے) پھر بنی عبدالاشہل کے گھر، پھر بنی حارث بن خزرج کے گھر۔ پھر بنی ساعدہ کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے۔ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان فرمائی تو ہم کو سب کے اخیر میں کر دیا؟ یہ سن کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں ہے کہ تم خیر و برکت والوں میں سے ہو جاؤ؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5948]
حضرت ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو ہم وادی القریٰ میں ایک عورت کے باغیچے پر پہنچے، سورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ کے پھل کا اندازہ لگاؤ۔ ہم نے اس کا اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق لگایا اور آپ نے فرمایا: اے عورت! اس کے پھل کویاد رکھنا، حتیٰ کہ ان شاء اللہ ہم تیرے پاس لوٹ آئیں۔ ہم چل پڑے حتیٰ کہ تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات سخت آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی اس میں نہ اُٹھے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہے، وہ اس کا بندھن مضبوط کرکے باندھے۔ تو سخت آندھی چلی،ایک آدمی کھڑا ہوا، آندھی نے اس کو اٹھا کر طی قبیلہ کے دو پہاڑوں میں پھینک دیا، اور ایلہ کے حاکم ابن علماء کا ایلچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط لایا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں سفید خچر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی، پھر ہم واپس پلٹے، حتیٰ کہ ہم وادی القری پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے اس کے باغ کے بارے میں پوچھا، اس کا پھل کتنا نکلا۔ اس نےکہا، دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیز رفتاری اختیار کرنے لگا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیز تیز چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے۔ سو ہم چلے حتیٰ کہ مدینہ پر جا جھانکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (مدینہ) پاک سرزمین(طابہ) ہے اور یہ احد ہے اور یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے گھرانوں سے بہترین خاندان بنونجار ہے، پھر بنوعہد اشہل کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبدالحارث بن خزرج کا خاندان ہے، پھر بنو ساعدہ کا خاندان ہے اور انصار کے تمام خاندانوں میں خیروخوبی ہے۔ پھر ہم سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے تو حضرت ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، کیا آپ کو معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری خاندانوں میں امتیاز قائم کیا۔ تو ہمیں آخر میں قرار دیا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور پوچھا، اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ نے انصاری خاندانوں کی فضیلت وخوبی کا تذکرہ فرمایا تو ہمیں آخر میں ٹھہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمھیں یہ کافی نہیں ہے کہ تم بہترین لوگوں میں سے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5949
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک:اور انصار کے تمام گھروں میں خیر و برکت ہے۔انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا قصہ، جو اس کے بعد ہے، ذکر نہیں کیا۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ (بطور حاکم) اس کو لکھ دیا، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5949]
یہی روایت امام صاحب کے دو اور اساتذہ نے بیان کی، لیکن اس میں صرف انصار کے ہر خاندان میں خیر ہے۔ تک بیان کیا ہے اور حضرت سعد بن عبادہ کا واقعہ بیان نہیں کیا اور وہیب کی حدیث میں، اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں