🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم وصفاته:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2293 ترقیم شاملہ: -- 5972
(حديث مرفوع) قَالَ: وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا.
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حوض میں (موجود) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، کچھ لوگوں کو مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا (کچھ) کیا؟ آپ کے بعد انہوں نے اپنی ایڑیوں پر واپس گھومنے میں (ذرا) دیر نہیں کی۔(نافع نے) کہا: ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے:اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یا ہمیں کسی آزمائش میں ڈال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5972]
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر رہوں گا تاکہ ان لوگوں کو دیکھوں جو میرے پاس آئیں گے اور کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے پکڑ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری راہ پر چلنے والے اور میرے ساتھ ہیں، تو جواب دیا جائے گا: کیا تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تمہارے بعد کیا عمل کیے؟ اللہ کی قسم! یہ تمہارے بعد مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے رہے۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ وہ یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا» اے اللہ! ہم ایڑیوں پر لوٹنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور اس سے کہ اپنے دین سے برگشتہ ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6593
إني على الحوض حتى أنظر من يرد علي منكم سيؤخذ ناس دوني فأقول يا رب مني ومن أمتي هل شعرت ما عملوا بعدك والله ما برحوا يرجعون على أعقابهم
صحيح مسلم
5972
إني على الحوض حتى أنظر من يرد علي منكم سيؤخذ أناس دوني فأقول يا رب مني ومن أمتي أما شعرت ما عملوا بعدك والله ما برحوا بعدك يرجعون على أعقابهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5972 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5972
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کی دعا سے ثابت ہوتا ہے،
وہ ان لوگوں کو بھی اس میں داخل سمجھتے تھے،
جنہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور کے بعد دین میں نئی نئی باتیں داخل کیں یا دین سے برگشتہ ہو گئے،
لیکن وہ چونکہ کلمہ توحید پڑھتے تھے اور مسلمانوں کی طرح دینی احکام کو تسلیم کرتے تھے،
اگرچہ ان پر پوری طرح عمل پیرا نہیں تھے،
اس لیے وہ آپ کو اپنے امتی محسوس ہوں گے،
اس لیے بعض روایات میں أصحابی آیا ہے اور بعض میں من امتی،
کیونکہ دونوں قسم کے لوگ ہوں گے۔
یعنی کچھ ابوبکر کے دور میں مرتد ہونے والے اور کچھ بعد کی امت سے بدعتوں کے مرتکب،
جیسا کہ من امتی کے لفظ سے ثابت ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5972]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6593
6593. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ ابن ملکیہ کہا کرتے تھے: اے اللہ! ہم اس سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ الٹے پاؤں لوٹ جائیں یا اپنے دین کے متعلق کسی فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔ (علی أعفا بکم تنکصون) کے معنیٰ یہی ہیں: تم اپنے دین سے ایڑیوں کے بل پھر گئے، یعنی اسلام سے مرتد ہوگئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6593]
حدیث حاشیہ:
(1)
جو انسان دین اسلام سے مرتد ہو جائے یا دین اسلام میں بدعات کو رواج دے، اسے قیامت کے دن حوض کوثر سے دور رکھا جائے گا۔
اسی طرح وہ شخص جو حق کو دبائے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرے، اسلام اور اہل اسلام کو ذلیل کرے اسے بھی اس سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
میں تجھے ان امراء سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرے بعد ہوں گے۔
جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم و ستم پر ان کا تعاون کرے گا وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں اور وہ حوض کوثر پر میرے نزدیک نہیں آ سکے گا۔
اور جو انسان ان کے دروازے پر نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور نہ ان کے ظلم و ستم پر ان کی مدد کرے گا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
وہ حوض پر میرے پاس آئے گا اور اس کا پانی نوش کرے گا۔
(جامع الترمذي، الفتن، حدیث: 2259) (2)
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارا خاتمہ ایمان پر کر اور ہمیں ان لوگوں کی رفاقت نصیب کر جو تیری بارگاہ میں کامران و کامیاب ہیں اور قیامت کے دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی پینے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6593]

Sahih Muslim Hadith 5972 in Urdu