صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2289 ترقیم شاملہ: -- 5966
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ".
ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5966]
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، ”میں حوض پر تمہارا پیش روہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2289 ترقیم شاملہ: -- 5967
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5967]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2290 ترقیم شاملہ: -- 5968
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ "، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ،
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:”میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لیے آجائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی۔“ابوحازم نے کہا: میں یہ حدیث (سننے والوں کو) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے: آپ نے سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5968]
حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لئے آجائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیا سا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انھیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان ر کاوٹ حائل کر دی جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2291 ترقیم شاملہ: -- 5969
قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي.
نعمان بن ابی عیاش نے کہا: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اس (حدیث) میں مزید یہ بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے:”یہ میرے (لوگ) ہیں تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو، ہلاکت ہو! ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلی کردی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5969]
نعمان بن ابی عیاش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، میں نے ان کو اس میں یہ اضافہ کرتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے،"وہ مجھ سے ہیں، یعنی میرے تعلق دار ہیں تو آپ کو جواب دیا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں ہے، انھوں نے آپ کے بعد کون سے عمل کیے تو میں کہوں گا، دوری ہے، دوری ہے، ان کے لیے جنھوں نے میرے بعد تبدیلی کی۔“ ابوحازم بیان کرتے ہیں: نعمان بن ابی عیاش نے سنا کہ میں انہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں تو اس نے کہا تو نے سہل کو اس طرح بیان کرتے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2291 ترقیم شاملہ: -- 5970
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
ابواسامہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند کے ساتھ ابوحازم نے) نعمان بن ابی عیاش سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب بن عبدالرحمان القاری کی حدیث کے مانند بیان کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5970]
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مذکورہ بالا حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث منقول ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2292 ترقیم شاملہ: -- 5971
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا ".
نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرا حوض (لمبائی چوڑائی میں) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے (چاروں) کنارے برابر ہیں (مربع ہے)، اس کا پانی چاندی سے زیادہ چمکدار، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے، اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5971]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کےچاروں کنارے برابر ہیں (طول وعرض یکساں ہے) اس کاپانی چاندی سے زیادہ چمکدار، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے، اس کے کوزے آسمان کےستاروں جتنے ہیں۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2293 ترقیم شاملہ: -- 5972
(حديث مرفوع) قَالَ: وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا.
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض میں (موجود) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، کچھ لوگوں کو مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا (کچھ) کیا؟ آپ کے بعد انہوں نے اپنی ایڑیوں پر واپس گھومنے میں (ذرا) دیر نہیں کی۔“(نافع نے) کہا: ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے:”اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یا ہمیں کسی آزمائش میں ڈال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5972]
ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر رہوں گا تاکہ ان لوگوں کو دیکھوں جو میرے پاس آئیں گےاور کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے پکڑ لیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب! یہ میری راہ پر چلنے والے اور میرے ساتھ ہیں تو جواب دیا جائے گا، کیا تمہیں معلوم نہیں، انہوں ن ے تیرے بعد کیا عمل کیے؟ اللہ کی قسم! یہ تیرے بعد مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے رہے“ ابن ابی ملیکہ کے شاگرد کہے ہیں وہ یہ دعا کرتے تھے، اے اللہ! ہم ایڑیوں پر لوٹنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور اس سے کہ اپنے دین سے برگشتہ ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2294 ترقیم شاملہ: -- 5973
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے اور فرما رہے تھے:”میں حوض پر ہوں گا۔ انتظار کر رہا ہوں گا کہ پاس پینے کے لیے کون آتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے کچھ لوگوں کو کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا، تو میں کہوں گا: میرے رب! (یہ) میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5973]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اپنے ساتھیوں میں فرماتے ہوئے سنا، ”میں حوض پر ہوں گا۔ تم میں سے اپنے پاس آنے والوں کا منتظر ہوں گا، سو اللہ کی قسم! مجھ سے ورے کچھ آدمی روک لیے جائیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے آقا! میرے پیرو کار، میرے امتی ہیں سو وہ فرمائے گا، تمہیں پتہ نہیں ہے، انہوں نے نے تیرے بعد کیا عمل کیے، یہ ہمیشہ اپنے الٹے پاؤں کوٹتے رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2294
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5974
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ، وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ، فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا ".
بکیر نے قاسم بن عباس ہاشمی سے روایت کی، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبیداللہ بن رافع سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں لوگوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض (کوثر) کا ذکر کرتے تھے۔ میں نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی، پھر ان (میری باری کے) دنوں میں سے ایک دن ہوا۔ اور خادمہ میری کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:”اے لوگو!“میں نے خادمہ سے کہا: مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ! وہ کہنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو پکارا (مخاطب فرمایا) ہے عورتوں کو نہیں۔ میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں سے ہوں (صرف مرد ہی لوگ نہیں ہوتے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میرے پاس تم میں سے کوئی اس طرح نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور دھکیلا جا رہا ہو، جس طرح بھٹکے ہوئے اونٹ کو (ریوڑ سے) اور دور دھکیلا جاتا ہے۔ میں پوچھوں گا۔ یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟ تو کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئے کام نکالے تھے۔ تو میں کہوں گا دوری ہو!““ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5974]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں لوگوں سے حوض کا تذکرہ سنتی تھی اور اس کا ذکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایک لڑکی مجھے کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے لوگو!“ میں لڑکی سے کہا، مجھ سے دور ہو جاؤ، اس نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے، عورتوں کونہیں بلایا تومیں نے کہا، میں بھی لوگوں میں داخل ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، تم ہوشیار ہو جاؤ، تم میں سے کوئی اس حال میں نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور ہٹایا جائے، جس بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، سو میں کہوں گا، یہ کس بنا پر ہوا؟ تو کہا جائے گا، تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تیرے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں تومیں کہوں گا، دوری ہو، اس کو دور لے جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5975
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: كُفِّي رَأْسِي، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ.
ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں عبداللہ بن رافع نے حدیث سنائی، کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت وہ کنگھی کرا رہی تھیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے لوگو!“انہوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا: میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5975]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا، جبکہ وہ کنگھی کروا رہی تھیں، ”اے لوگو!“ تو اس نے کنگھی کرنے والی سے کہا، میرے سر کے بالوں کو جمع کردو، مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة