صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب كم اقام النبي صلى الله عليه وسلم بمكة والمدينة:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ میں کتنی مدت قیام فرمایا ہے؟
ترقیم عبدالباقی: 2350 ترقیم شاملہ: -- 6095
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ، قُلْتُ لِعُرْوَةَ : " كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِضْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: فَغَفَّرَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ ".
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بعثت کے بعد) مکہ میں کتنے سال رہے؟ انہوں نے کہا: دس (سال)۔ کہا: میں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو دس (سال) سے کچھ زائد بتاتے ہیں۔ انہوں (عمرو بن دینار) نے کہا: تو انہوں (عروہ رحمہ اللہ) نے کہا: اللہ ان کی مغفرت کرے! اور کہا: انہوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6095]
عمرو کہتے ہیں،میں نے عروہ سے پوچھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کتنا عرصہ قیام کیا؟ اس نے کہا، دس سال، میں نے کہا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما تو دس سال سے زائد بتاتے ہیں، عروہ نے کہا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے یہ بات شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6095]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2350
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6095 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6095
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عروہ کا اشارہ،
ابو قیس صرمہ بن ابی انس کے اس شعر کی طرف ہے۔
”ثوی فی قريش بضع عشرة حجة يذكر لويلقٰی خليلا مواتيا“ ”وہ قریش میں دس سال سے کچھ زائد سال رہے،
اس خیال سے وعظ و تذکیر کرتے رہے کہ کوئی دوست مل جائے،
جو ہم نوائی کرے۔
“ لیکن صحیح قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے،
حضرت عروہ نے اپنے خیال کے مطابق اس کو درست نہیں سمجھا،
اس لیے ان کے حق میں مغفرت کی دعا کی۔
فوائد ومسائل:
حضرت عروہ کا اشارہ،
ابو قیس صرمہ بن ابی انس کے اس شعر کی طرف ہے۔
”ثوی فی قريش بضع عشرة حجة يذكر لويلقٰی خليلا مواتيا“ ”وہ قریش میں دس سال سے کچھ زائد سال رہے،
اس خیال سے وعظ و تذکیر کرتے رہے کہ کوئی دوست مل جائے،
جو ہم نوائی کرے۔
“ لیکن صحیح قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے،
حضرت عروہ نے اپنے خیال کے مطابق اس کو درست نہیں سمجھا،
اس لیے ان کے حق میں مغفرت کی دعا کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6095]
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي