🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب علمه صلى الله عليه وسلم بالله تعالى وشدة خشيته:
باب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2356 ترقیم شاملہ: -- 6109
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوضحیٰ (مسلم) سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بعض کو یہ خبر پہنچی، انہوں نے گویا کہ اس (رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: "ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور اس (اللہ) کی خشیت میں ان سب سے بڑھ کر ہوں۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6109]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کے کرنے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں تک یہ بات پہنچی تو گویا کہ انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے احتراز (پرہیز) کیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ معاملہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہیں میری طرف سے ایک کام کی خبر پہنچی، میں نے اس کی رخصت دی، انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور اس سے پرہیز کیا، سو اللہ کی قسم! میں اللہ کے بارے میں ان سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2356
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6101
أعلمهم بالله وأشدهم له خشية
صحيح البخاري
7301
أعلمهم بالله وأشدهم له خشية
صحيح مسلم
6111
أعلمهم بالله وأشدهم له خشية
صحيح مسلم
6109
أعلمهم بالله وأشدهم له خشية
مشكوة المصابيح
146
ما بال اقوام يتنزهون عن الشيء اصنعه فوالله إني لاعلمهم بالله واشدهم له خشية
Sahih Muslim Hadith 6109 in Urdu