صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب من فضائل موسى صلى الله عليه وسلم:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 6147
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا حَيِيًّا، قَالَ: فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا، قَالَ: فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ، ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَنَزَلَت: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 ".
عبداللہ بن شفیق نے کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیا مرد تھے، کہا: انہیں برہنہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ کہا تو بنی اسرائیل نے کہا: انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ کہا: (ایک دن) انہوں نے تھوڑے سے پانی (کے ایک تالاب) کے پاس غسل کیا اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھ دیے تو وہ پتھر بھاگ نکلا۔ آپ علیہ السلام اپنا عصا لے کر اس کے پیچھے ہو لیے اسے مارتے تھے (اور کہتے تھے:) میرے کپڑے پتھر! میرے کپڑے پتھر! یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع کے سامنے رک گیا۔ اور (اس کے حوالے سے آیت) اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا» ”اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی کہی ہوئی بات سے بری کیا اور وہ اللہ کے نزدیک انتہائی وجیہ (خوبصورت اور وجاہت والے) تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6147]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت با حیاء مرد تھے اور کبھی ننگے دکھائی نہیں دیتے تھے تو بنو اسرائیل کہنے لگے ان کے خصیتین سوجھے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک تھوڑے پانی کے ساتھ غسل کیا اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے، پتھر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ علیہ السلام اپنا ڈنڈا لے کر مارنے کے لیے پیچھے بھاگے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» ”میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر!“ حتیٰ کہ وہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس جا کر رک گیا۔ اس واقعے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ [سورة الأحزاب: 69] ”اے ایماندارو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا، جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی، سو اللہ نے ان کو ان کی باتوں سے بری کر دیا اور وہ اللہ کے ہاں بہت عزت والے تھے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6147 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6147
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
حيي:
باحیاء،
شرمیلے۔
(2)
مويه:
ماء کی تصغیر ہے،
پانی کا چھوٹا سا گڑھا۔
مفردات الحدیث:
(1)
حيي:
باحیاء،
شرمیلے۔
(2)
مويه:
ماء کی تصغیر ہے،
پانی کا چھوٹا سا گڑھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6147]
Sahih Muslim Hadith 6147 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← أبو هريرة الدوسي