صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب من فضائل ابي بكر الصديق رضي الله عنه:
باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2387 ترقیم شاملہ: -- 6181
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ ".
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (آخری) مرض کے دوران مجھ سے فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابوبکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6181]
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (آخری) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں، جبکہ اللہ بھی ابوبکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6181 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6181
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صراحۃ ثابت ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ابوبکر کو خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ فرمایا،
لیکن اس پیشن گوئی کے سبب کہ اللہ اور مومنوں کو ابوبکر کے سوا کسی کی خلافت منظور نہیں ہو گی،
آپ نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صراحۃ ثابت ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ابوبکر کو خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ فرمایا،
لیکن اس پیشن گوئی کے سبب کہ اللہ اور مومنوں کو ابوبکر کے سوا کسی کی خلافت منظور نہیں ہو گی،
آپ نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6181]
Sahih Muslim Hadith 6181 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق