یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب فضائل خديجة ام المؤمنين رضي الله تعالى عنها:
باب: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2432 ترقیم شاملہ: -- 6273
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، أَوْ طَعَامٌ، أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ، وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ: وَمِنِّي.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ہیں، آپ کے پاس آئی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے، چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو انہیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انہیں جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دیں جو (موتیوں کی) لمبی چھڑیوں کا بنا ہوا ہے، نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔“ انہوں نے ”میں نے سنا“ (کا لفظ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں ”اور میری طرف سے“ (کا لفظ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6273]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی طرف آرہی ہیں، ان کے پاس برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا مشروب ہے، تو جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو انہیں ان کے رب عزوجل اور میری طرف سے سلام کہہ دیجیے اور انہیں جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیجیے جو خول دار موتیوں کا بنا ہوا ہے، جس میں نہ شور و شغب ہے اور نہ تھکان و مشقت۔“ ابوبکر کی روایت میں «مِنِّي» ”میری طرف سے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6273]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3820
| بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحيح مسلم |
6273
| بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6273 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6273
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں خلوت نشین ہوتے تو حضرت خدیجہ،
کھانا پینا لے کر آتیں اور جب آپ نے حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا،
ان الله هو السلام،
و علی جبرائيل السلام و عليك يا رسول الله السلام ورحمة الله وبركاته،
(سنن نسائی)
اس سے حضرت خدیجہ کے فہم و ذکاء اور سوجھ بوجھ کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے،
السلام علی الله نہیں کہا،
کیونکہ وہ تو سلامتی بخشنے والا ہے،
وہ سلامتی کی دعا کا محتاج نہیں ہے،
اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو السلام علی الله کہنے کا منع فرمایا تھا اور فرمایا،
ان الله هو السلام۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں خلوت نشین ہوتے تو حضرت خدیجہ،
کھانا پینا لے کر آتیں اور جب آپ نے حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا،
ان الله هو السلام،
و علی جبرائيل السلام و عليك يا رسول الله السلام ورحمة الله وبركاته،
(سنن نسائی)
اس سے حضرت خدیجہ کے فہم و ذکاء اور سوجھ بوجھ کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے،
السلام علی الله نہیں کہا،
کیونکہ وہ تو سلامتی بخشنے والا ہے،
وہ سلامتی کی دعا کا محتاج نہیں ہے،
اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو السلام علی الله کہنے کا منع فرمایا تھا اور فرمایا،
ان الله هو السلام۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6273]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3820
3820. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ حضرت خدیجہ ؓ تشریف لا رہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب آپ کی خدمت میں پہنچ جائیں تو ان کے رب کی طرف سے انہیں سلام کہیں، نیز میری طرف سے بھی۔ اور انہیں جنت میں موتی کے ایسے محل کی بشارت سنائیں جس میں کوئی شوروغوغا اور مشقت و تھکاوٹ نہ ہو گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3820]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت خدیجہ ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کا سلام پہنچایا تو انھوں نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ توسراپاسلامتی ہے، اس لیے حضرت جبرئیل ؑ پر سلام اور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر بھی سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
(السنن الکبریٰ للنسائي: 94/5)
ایک روایت میں ہے:
شیطان مردود کے علاوہ جو بھی سنے اس پر بھی سلامتی ہو۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السني، رقم: 239)
حضرت خدیجہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے فہم وبصیرت عطا کی تھی۔
انھوں نے اللہ کی طرف سے سلام کے جواب میں عَلَیه السَّلَامُ نہیں کہا کیونکہ وہ توخود سلام ہے، البتہ مخلوق کے سلام کا جواب دیا جاتا ہے۔
پھر اس سے شیطان مردود کو مستثنیٰ کیا کیونکہ وہ سلام ودعا کا حقدار ہی نہیں۔
2۔
حضرت جبرئیل ؑ نے اللہ تعالیٰ کا سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہنچایا، براہ راست انھیں سلام نہیں کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کایہی تقاضا تھا لیکن حضرت جبرئیل ؑ نے حضرت مریم ؑ کو سلام کہاہے تو براہ راست ان سے خطاب کیا ہے کیونکہ ان کا کوئی محرم نہیں تھا جس کی وساطت سے سلام کہا جاتا۔
(فتح الباري: 174/7)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت خدیجہ ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کا سلام پہنچایا تو انھوں نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ توسراپاسلامتی ہے، اس لیے حضرت جبرئیل ؑ پر سلام اور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر بھی سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
(السنن الکبریٰ للنسائي: 94/5)
ایک روایت میں ہے:
شیطان مردود کے علاوہ جو بھی سنے اس پر بھی سلامتی ہو۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السني، رقم: 239)
حضرت خدیجہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے فہم وبصیرت عطا کی تھی۔
انھوں نے اللہ کی طرف سے سلام کے جواب میں عَلَیه السَّلَامُ نہیں کہا کیونکہ وہ توخود سلام ہے، البتہ مخلوق کے سلام کا جواب دیا جاتا ہے۔
پھر اس سے شیطان مردود کو مستثنیٰ کیا کیونکہ وہ سلام ودعا کا حقدار ہی نہیں۔
2۔
حضرت جبرئیل ؑ نے اللہ تعالیٰ کا سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہنچایا، براہ راست انھیں سلام نہیں کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کایہی تقاضا تھا لیکن حضرت جبرئیل ؑ نے حضرت مریم ؑ کو سلام کہاہے تو براہ راست ان سے خطاب کیا ہے کیونکہ ان کا کوئی محرم نہیں تھا جس کی وساطت سے سلام کہا جاتا۔
(فتح الباري: 174/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3820]
Sahih Muslim Hadith 6273 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي