صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة، وفضلها رضي الله عنها:
باب: خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3820
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ , فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي , وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا (فرمایا) کھانا یا (فرمایا) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3820]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ”اللہ کے رسول! یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب آپ کی خدمت میں پہنچ جائیں تو ان کے رب کی طرف سے انہیں سلام کہیں، نیز میری طرف سے بھی۔ اور انہیں جنت میں موتی کے ایسے محل کی بشارت سنائیں جس میں کوئی شوروغوغا اور مشقت و تھکاوٹ نہ ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3820
| بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحيح مسلم |
6273
| بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3820 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3820
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت خدیجہ ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کا سلام پہنچایا تو انھوں نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ توسراپاسلامتی ہے، اس لیے حضرت جبرئیل ؑ پر سلام اور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر بھی سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
(السنن الکبریٰ للنسائي: 94/5)
ایک روایت میں ہے:
شیطان مردود کے علاوہ جو بھی سنے اس پر بھی سلامتی ہو۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السني، رقم: 239)
حضرت خدیجہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے فہم وبصیرت عطا کی تھی۔
انھوں نے اللہ کی طرف سے سلام کے جواب میں عَلَیه السَّلَامُ نہیں کہا کیونکہ وہ توخود سلام ہے، البتہ مخلوق کے سلام کا جواب دیا جاتا ہے۔
پھر اس سے شیطان مردود کو مستثنیٰ کیا کیونکہ وہ سلام ودعا کا حقدار ہی نہیں۔
2۔
حضرت جبرئیل ؑ نے اللہ تعالیٰ کا سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہنچایا، براہ راست انھیں سلام نہیں کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کایہی تقاضا تھا لیکن حضرت جبرئیل ؑ نے حضرت مریم ؑ کو سلام کہاہے تو براہ راست ان سے خطاب کیا ہے کیونکہ ان کا کوئی محرم نہیں تھا جس کی وساطت سے سلام کہا جاتا۔
(فتح الباري: 174/7)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت خدیجہ ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کا سلام پہنچایا تو انھوں نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ توسراپاسلامتی ہے، اس لیے حضرت جبرئیل ؑ پر سلام اور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر بھی سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
(السنن الکبریٰ للنسائي: 94/5)
ایک روایت میں ہے:
شیطان مردود کے علاوہ جو بھی سنے اس پر بھی سلامتی ہو۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السني، رقم: 239)
حضرت خدیجہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے فہم وبصیرت عطا کی تھی۔
انھوں نے اللہ کی طرف سے سلام کے جواب میں عَلَیه السَّلَامُ نہیں کہا کیونکہ وہ توخود سلام ہے، البتہ مخلوق کے سلام کا جواب دیا جاتا ہے۔
پھر اس سے شیطان مردود کو مستثنیٰ کیا کیونکہ وہ سلام ودعا کا حقدار ہی نہیں۔
2۔
حضرت جبرئیل ؑ نے اللہ تعالیٰ کا سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہنچایا، براہ راست انھیں سلام نہیں کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کایہی تقاضا تھا لیکن حضرت جبرئیل ؑ نے حضرت مریم ؑ کو سلام کہاہے تو براہ راست ان سے خطاب کیا ہے کیونکہ ان کا کوئی محرم نہیں تھا جس کی وساطت سے سلام کہا جاتا۔
(فتح الباري: 174/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3820]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6273
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جبریل ؑ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا،اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )!یہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی طرف آرہی ہیں،اس کے پاس برتن ہے،جس میں سالن یا کھانا یا مشروب ہے تو جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائے تو اسے اس کے رب عزوجل اور میری طرف سے سلام کہہ دیجئے اور اسے جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیجئے جو خول دارموتیوں کا بنا ہواہے،جس میں نہ شوروشغب ہے اور نہ تھکان ومشقت،ابوبکر کی روایت میں،مِنی،میری طرف... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6273]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں خلوت نشین ہوتے تو حضرت خدیجہ،
کھانا پینا لے کر آتیں اور جب آپ نے حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا،
ان الله هو السلام،
و علی جبرائيل السلام و عليك يا رسول الله السلام ورحمة الله وبركاته،
(سنن نسائی)
اس سے حضرت خدیجہ کے فہم و ذکاء اور سوجھ بوجھ کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے،
السلام علی الله نہیں کہا،
کیونکہ وہ تو سلامتی بخشنے والا ہے،
وہ سلامتی کی دعا کا محتاج نہیں ہے،
اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو السلام علی الله کہنے کا منع فرمایا تھا اور فرمایا،
ان الله هو السلام۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں خلوت نشین ہوتے تو حضرت خدیجہ،
کھانا پینا لے کر آتیں اور جب آپ نے حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا،
ان الله هو السلام،
و علی جبرائيل السلام و عليك يا رسول الله السلام ورحمة الله وبركاته،
(سنن نسائی)
اس سے حضرت خدیجہ کے فہم و ذکاء اور سوجھ بوجھ کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے،
السلام علی الله نہیں کہا،
کیونکہ وہ تو سلامتی بخشنے والا ہے،
وہ سلامتی کی دعا کا محتاج نہیں ہے،
اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو السلام علی الله کہنے کا منع فرمایا تھا اور فرمایا،
ان الله هو السلام۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6273]
Sahih Bukhari Hadith 3820 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي