🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب من فضائل زينب ام المؤمنين رضي الله عنها:
باب: ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2452 ترقیم شاملہ: -- 6316
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ ".
عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے جلدی میرے ساتھ آملنے والی (میری وہ اہلیہ ہو گی جو) تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم لمبائی ناپا کرتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ انہوں نے کہا: اصل میں زینب ہم سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی تھیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور (اس کی اجرت) صدقہ کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6316]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے سب سے پہلے مجھے،لمبے ہاتھوں والی ملےگی۔"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،چنانچہ ازواج مطہرات،اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرتی تھیں کہ ان میں سے سب سے لمبے ہاتھ کس کے ہیں؟وہ بیان کرتی ہیں،ہم میں سے سب سے لمبے ہاتھ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تھے،کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرکے صدقہ کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2452
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عائشة بنت طلحة القرشية، أم عمران
Newعائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥طلحة بن يحيى القرشي
Newطلحة بن يحيى القرشي ← عائشة بنت طلحة القرشية
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← طلحة بن يحيى القرشي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6316 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6316
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طول ید سے مقصد،
ہاتھ سے کام کاج اور محنت و مزدوری کر کے صدقہ و خیرات کرنا تھا،
لیکن ازواج مطہرات نے ظاہری معنی مراد لیتے ہوئے،
اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی تو سب سے لمبے ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے تھے،
لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں 20ھ سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی،
حالانکہ ان کے ہاتھ چھوٹے تھے تو پھر پتہ چلا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد،
ظاہری یا حقیقی طور پر لمبے مراد نہیں تھے اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی وفات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوئی،
اس لیے امام بخاری کا اپنی تاریخ صغیر میں سب سے پہلے مرنے والی حضرت سودہ کو قرار دینا درست نہیں ہے،
اس طرح صحیح بخاری میں ابو عوانہ کی روایت میں،
حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ و خیرات میں ممتاز قرار دینا درست نہیں ہے،
کیونکہ حضرت سودہ کے ہاتھ تو حقیقی اور ظاہری طور پر لمبے تھے تو پھر اگر حضرت سودہ پہلے فوت ہوتیں تو پھر حقیقی معنی کا غلط ہونا کیسے واضح ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6316]