صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب من فضائل ام ايمن رضي الله عنها:
باب: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2453 ترقیم شاملہ: -- 6317
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا، أَوْ لَمْ يُرِدْهُ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا۔ کہا: تو مجھے معلوم انہوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وہ مشروب) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے، (آپ نے پینے میں تردد فرمایا) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں (جس طرح ایک ماں کرتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6317]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا، انہوں نے آپ کو برتن پیش کیا، جس میں کوئی پینے کی چیز تھی، مجھے معلوم نہیں، آپ روزے سے تھے یا آپ کو پینے کی خواہش نہ تھی، (آپ نے واپس کر دیا) تو وہ چلانے لگیں اور آپ پر غصہ نکالنے لگیں، «تَذَمَّرُ عَلَيْهِ» ”آپ سے غصہ نکالنے لگیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6317]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6317 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6317
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے جب آپ کو مشروب پیش کیا اور آپ نے کسی سبب سے نہ پیا تو وہ آپ کی حاضنہ پرورش کنندہ ہونے کی بنا پر آپ پر غصے ہونے لگیں اور شور کرنے لگیں،
لیکن یہ سب کچھ ناز و تدلل کی بنا پر تھا،
اس لیے آپ نے گوارا فرمایا۔
فوائد ومسائل:
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے جب آپ کو مشروب پیش کیا اور آپ نے کسی سبب سے نہ پیا تو وہ آپ کی حاضنہ پرورش کنندہ ہونے کی بنا پر آپ پر غصے ہونے لگیں اور شور کرنے لگیں،
لیکن یہ سب کچھ ناز و تدلل کی بنا پر تھا،
اس لیے آپ نے گوارا فرمایا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6317]
Sahih Muslim Hadith 6317 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري