صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب من فضائل عبد الله بن عمرو بن حرام والد جابر رضي الله تعالى عنه ما:
باب: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2471 ترقیم شاملہ: -- 6354
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى، وَقَدْ مُثِلَ بِهِ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: بِنْتُ عَمْرٍو، أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، فَقَالَ: وَلِمَ تَبْكِي، فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایا گیا، ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں (اور دیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر کپڑا اٹھایا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو (اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: عمرو کی بیٹی (شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا (کہا:) عمرو کی بہن (شہید کی پھوپھی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں روتی ہے؟ ان (کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6354]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایاگیا،ان کا مثلہ کیاگیا تھا(ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں(اوردیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا،میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر کپڑا اٹھایا،یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو(اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:"یہ کون ہے؟"تو لوگوں نے بتایا:عمرو کی بیٹی(شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا(کہا:) عمرو کی بہن(شہید کی پھوپھی) ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" وہ کیوں روتی ہے؟ان(کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہواہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6354 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6354
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
قد مثل بهظ:
ان کے اعضاء و جوارح ہاتھ پاؤں،
کان،
ناک وغیرہ کاٹ دئیے گئے ہیں۔
مفردات الحدیث:
قد مثل بهظ:
ان کے اعضاء و جوارح ہاتھ پاؤں،
کان،
ناک وغیرہ کاٹ دئیے گئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6354]
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري