صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب فضائل حسان بن ثابت رضي الله عنه:
باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6384
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے (معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6384]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، یا اللہ! تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حسان بن ثابت الخزرجي، أبو عبد الرحمن، أبو الوليد، أبو الحسام | صحابي | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← حسان بن ثابت الخزرجي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله محمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن أبي عمر العدني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان عمرو بن محمد الناقد ← إسحاق بن راهويه المروزي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6384 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6384
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لحظ اليه:
انہیں غصہ سے دیکھا،
گویا چپ ہو جانے کا اشارہ کیا۔
(2)
وفيه خير منك:
جبکہ اس میں تم سے بہتر شخص،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔
(3)
اجب عني:
کافروں کی باتوں اور ہجو کا میری طرف سے جواب دو،
جس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف و تعریف،
کافروں کی تردید اور اسلام کی تبلیغ و دفاع پر مشتمل اشعار مسجد میں پڑھنا جائز ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
لحظ اليه:
انہیں غصہ سے دیکھا،
گویا چپ ہو جانے کا اشارہ کیا۔
(2)
وفيه خير منك:
جبکہ اس میں تم سے بہتر شخص،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔
(3)
اجب عني:
کافروں کی باتوں اور ہجو کا میری طرف سے جواب دو،
جس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف و تعریف،
کافروں کی تردید اور اسلام کی تبلیغ و دفاع پر مشتمل اشعار مسجد میں پڑھنا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6384]
Sahih Muslim Hadith 6384 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← حسان بن ثابت الخزرجي