🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب من فضائل حاطب بن ابي بلتعة واهل بدر رضي الله عنهم :
باب: حاطب بن ابی بلتعہ اور اہل بدر کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2495 ترقیم شاملہ: -- 6403
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبْتَ، لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْحُدَيْبِيَةَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی (کسی بات کی) شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور دوزخ میں جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو۔ وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6403]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت حاطب کا غلام شکایت کرتے ہوئے آیا اور کہنے لگا،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حاطب ضرور آگ میں داخل ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم جھوٹ کہتے ہو،وہ اس میں داخل نہیں ہوگا،کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرچکاہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2495
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن رمح التجيبي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6403
كذبت لا يدخلها فإنه شهد بدرا والحديبية
جامع الترمذي
3864
كذبت لا يدخلها فإنه قد شهد بدرا والحديبية
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6403 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6403
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت حاطب کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے،
کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر نہیں ہے،
کیونکہ مسلمانوں کی جاسوسی کبیرہ گناہ ہے،
اس لیے حضرت عمر نے قتل کی اجازت چاہی تھی،
لیکن حضرت حاطب سے یہ غلطی غیر شعوری طور پر سرزد ہوئی تھی،
اس لیے آپ نے قتل کی اجازت نہ دی اور حضرت حاطب کا عذر تسلیم کر لیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
ملزم کو بات کرنے کا موقعہ دینا چاہیے اور اگر اس کا عذر قابل قبول ہو تو اس سے درگزر کرنا چاہیے اور اگر کوئی انسان دوسرے پر اس کے ظاہری حالات کی روشنی میں تبصرہ کرتا ہے تو وہ مجرم نہیں ہو گا،
اس لیے آپ نے حضرت عمر اور حضرت حاطب کے غلام کو سرزنش اور توبیخ نہیں فرمائی،
اگرچہ ان کی بات بھی تسلیم نہیں کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6403]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3864
صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3864]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کر دیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3864]