صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الإِنْسَانِ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى:
باب: اللہ کی رحمت سے کسی کو ناامید کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2621 ترقیم شاملہ: -- 6681
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ: " أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ، فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ.
ابوعمران جونی نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے (اس) فلاں کو تو بخش دیا اور (ایسا کہنے والے!) تیرے سارے عمل ضائع کر دیے۔“ یا جن الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6681]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں کو معاف نہیں فرمائے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بارے میں یہ قسم اٹھانے والا کون ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا، میں نے فلاں کو بخش دیا اور تیرے (قسم اٹھانے والے کے) عمل ضائع کر دیے۔“ یا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6681 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6681
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی گناہ گار اور خطا کار مسلمان کے بارے میں یہ قسم اٹھانا کہ اللہ اس کو معاف نہیں کرے گا،
یہ دعویٰ کرنا ہے کہ مجھے غیب کا علم ہے یا اللہ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ یہ ہے جو میں کہوں گا،
اللہ تعالیٰ اسی طرح کرے گا،
یا اس طرح دوسرے کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا ہے اور یہ تمام باتیں غلط ہیں اور بعض گناہوں کی نحوست اس قدر زیادہ ہے کہ وہ نیکیوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں،
اگرچہ انسان ان سے کافر نہیں ہوتا۔
فوائد ومسائل:
کسی گناہ گار اور خطا کار مسلمان کے بارے میں یہ قسم اٹھانا کہ اللہ اس کو معاف نہیں کرے گا،
یہ دعویٰ کرنا ہے کہ مجھے غیب کا علم ہے یا اللہ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ یہ ہے جو میں کہوں گا،
اللہ تعالیٰ اسی طرح کرے گا،
یا اس طرح دوسرے کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا ہے اور یہ تمام باتیں غلط ہیں اور بعض گناہوں کی نحوست اس قدر زیادہ ہے کہ وہ نیکیوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں،
اگرچہ انسان ان سے کافر نہیں ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6681]
Sahih Muslim Hadith 6681 in Urdu
عبد الملك بن حبيب الأسدي ← جندب بن عبد الله البجلي