پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب تحريم الكبر:
باب: غرور کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2620 ترقیم شاملہ: -- 6680
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِزُّ إِزَارُهُ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهُ، فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ ".
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت اللہ عزوجل کا تہبند ہے اور کبریائی اس (کے کندھوں) کی چادر ہے۔ جو شخص ان (صفات) کے معاملے میں میرے مدمقابل میں آئے گا، میں اسے عذاب دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6680]
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت اللہ کی ازار ہے اور عظمت و کبریائی اس کی چادر ہے۔ (اللہ فرماتے ہیں) جو مجھ سے چھینے گا، یعنی تکبر کرے گا، میں اسے عذاب دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6680]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6680 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6680
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
تکبر کرنا،
اپنے آپ کو بڑا اور عظیم سمجھنا،
اللہ کی صفت عظمت اور کبریائی میں شراکت کا دعویٰ کرنا ہے،
حالانکہ اللہ کا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے اور جو اس کا شریک بننے کی کوشش کرتا ہے،
وہ عذاب سے دوچار ہو گا،
کیونکہ اگر کسی کو کوئی کمال اور خوبی حاصل ہے تو وہ اللہ کی عطا کردہ ہے،
جو عاجزی و فروتنی اور تواضع و انکساری کا سبب بننی چاہیے نہ کہ جس نے عنایت کی ہے،
اس کے مقابلہ میں آنے کی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
تکبر کرنا،
اپنے آپ کو بڑا اور عظیم سمجھنا،
اللہ کی صفت عظمت اور کبریائی میں شراکت کا دعویٰ کرنا ہے،
حالانکہ اللہ کا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے اور جو اس کا شریک بننے کی کوشش کرتا ہے،
وہ عذاب سے دوچار ہو گا،
کیونکہ اگر کسی کو کوئی کمال اور خوبی حاصل ہے تو وہ اللہ کی عطا کردہ ہے،
جو عاجزی و فروتنی اور تواضع و انکساری کا سبب بننی چاہیے نہ کہ جس نے عنایت کی ہے،
اس کے مقابلہ میں آنے کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6680]
Sahih Muslim Hadith 6680 in Urdu
أبو سعيد الخدري ← أبو هريرة الدوسي