صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالإِحْسَانِ إِلَيْهِ:
باب: ہمسائے کا حق اور اس کے ساتھ حسن سلوک۔
ترقیم عبدالباقی: 2624 ترقیم شاملہ: -- 6685
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كلهم، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثَنَّهُ ".
مالک بن انس، لیث بن سعد اور یزید بن ہارون سب نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (اسی طرح) محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہا: مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عمرہ نے ان کو حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مجھے جبریل مسلسل ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کے لیے کہتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ ضرور انہیں وراثت میں شریک کر دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6685]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں ہمیشہ وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اس کو وارث ہی ٹھہرا دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6685]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2624
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6685 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6685
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اسلام میں پڑوسی کو بہت اہمیت دی گئ ہے اور اس کے مختلف مراتب و درجات مقرر کیے گئے ہیں اور ہر پڑوسی سے اس کی حیثیت اور مرتبہ کے مطابق سلوک ہو گا،
ایک صرف گھر کا پڑوسی ہے،
لیکن مسلمان نہیں ہے،
ایک پڑوسی بھی ہے اور مسلمان بھی ہے،
نیک کردار اور آپ کا خیرخواہ اور ہمدرد بھی ہے،
آپ کا بدخواہ اور دشمن نہیں ہے،
ایک پڑوسی مسلمان بھی ہے اور آپ کا رشتہ دار بھی ہے،
ایک عارضی پڑوسی ہے اور ایک دائمی اور ہمہ وقت کا پڑوسی ہے،
جیسا کہ خود قرآن مجید سورۃ النساء آیت نمبر 47 میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔
فوائد ومسائل:
اسلام میں پڑوسی کو بہت اہمیت دی گئ ہے اور اس کے مختلف مراتب و درجات مقرر کیے گئے ہیں اور ہر پڑوسی سے اس کی حیثیت اور مرتبہ کے مطابق سلوک ہو گا،
ایک صرف گھر کا پڑوسی ہے،
لیکن مسلمان نہیں ہے،
ایک پڑوسی بھی ہے اور مسلمان بھی ہے،
نیک کردار اور آپ کا خیرخواہ اور ہمدرد بھی ہے،
آپ کا بدخواہ اور دشمن نہیں ہے،
ایک پڑوسی مسلمان بھی ہے اور آپ کا رشتہ دار بھی ہے،
ایک عارضی پڑوسی ہے اور ایک دائمی اور ہمہ وقت کا پڑوسی ہے،
جیسا کہ خود قرآن مجید سورۃ النساء آیت نمبر 47 میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6685]
Sahih Muslim Hadith 6685 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق