🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6ق. باب الكشف عن معايب رواة الحديث ونقلة الاخبار وقول الائمة في ذلك ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 67
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، قَالَ: كَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَكِنَّهُ أَرَادَ، أَنْ يَحُوزَهَا إِلَى قَوْلِهِ الْخَبِيثِ
معاذ بن معاذ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے کہا: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے (روایت کرتے ہوئے) یہ حدیث سنائی: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں۔ انہوں نے کہا: بخدا! عمرو نے (اس حدیث کی روایت حسن بصری کی طرف منسوب کرنے میں) جھوٹ بولا لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس (صحیح حدیث) کو اپنی جھوٹی بات سے ملا دے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ رحمہ اللہ سے پوچھا: عمرو بن عبید ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ عوف رحمہ اللہ نے قسم اٹھا کر کہا: عمرو جھوٹا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث سے اپنے خبیث نظریے کو تقویت پہنچائے، اور اس کو ثابت کرے۔ ( «حَوَزَ» کا معنی ہے جمع کرنا، اکٹھا کرنا[صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19182)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 67 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 67
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ حدیث نفس الامر اور حقیقت واقعہ کے اعتبار سے صحیح ہے،
امام مسلمؒ نے خود یہ حدیث بیان کی ہے۔
اور اس حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے:
کہ بلا شرعی ضرورت کے کسی مسلمان کے قتل کے درپے ہونا،
مسلمان کا شیوہ نہیں ہے،
اس لیے انسان ہمارے طریقہ اور ڈگر کو چھوڑ دیتا ہے۔
لیکن اس کا وہ مطلب نہیں ہے،
جومعتزلہ کہتے ہیں:
کہ اس حدیث سے معلوم ہوا،
کبیرہ گناہ کا مرتکب ایمان سے خارج ہوجاتا ہے،
اگرچہ کافر نہیں ہوتا،
لیکن کافروں کی طرح ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب مسلمان،
فاسق اور نا فرمان مسلمان ہے،
مسلمان کا معنی:
اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والا ہے،
اور یہ مسلمان کے شیوہ اطاعت وفرمانبرداری سے نکل گیا ہے،
اس لیے مجرم اور گناہ گار ہونے کی وجہ سے اگر توبہ نہ کرے،
یا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بخش نہ دے،
تو سزا کا مستحق ہے اور سزا بھگتنے کے بعد یا سفارش کی قبولیت کی صورت میں سفارش سے دوزخ سے نکل آئے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 67]

Sahih Muslim Hadith 67 in Urdu