Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب معنى كل مولود يولد على الفطرة وحكم موت اطفال الكفار واطفال المسلمين:
باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2660 ترقیم شاملہ: -- 6765
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ ".
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6765]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کےبچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:"جب اللہ نے ان کوپیداکیاہے تو اسے یہ بھی خوب علم ہے،وہ کون سے عمل کرنے والےتھے۔" [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر
Newجعفر بن أبي وحشية اليشكري ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6597
الله أعلم بما كانوا عاملين
صحيح البخاري
1383
الله إذ خلقهم أعلم بما كانوا عاملين
صحيح مسلم
6765
الله أعلم بما كانوا عاملين إذ خلقهم
سنن أبي داود
4711
الله أعلم بما كانوا عاملين
سنن النسائى الصغرى
1953
خلقهم الله حين خلقهم وهو يعلم بما كانوا عاملين
سنن النسائى الصغرى
1954
الله أعلم بما كانوا عاملين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6598
الله أعلم بما كانوا عاملين
صحيح البخاري
1384
الله أعلم بما كانوا عاملين
صحيح مسلم
6765
الله أعلم بما كانوا عاملين
صحيح مسلم
6764
الله أعلم بما كانوا عاملين
سنن النسائى الصغرى
1951
الله أعلم بما كانوا عاملين
سنن النسائى الصغرى
1952
الله أعلم بما كانوا عاملين
مشكوة المصابيح
93
الله أعلم بما كانوا عاملين
صحيح مسلم
6762
الله اعلم بما كانوا عاملين
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6765 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6765
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل سنت کے نزدیک،
اللہ کو (ما كان) (جو ہو چکا ہے) (ما يكون) (جو ہو گا) (ما لا يكون)
جو نہیں ہو گا،
(لو كان كيف كان يكون)
،
اگر اس نے ہونا ہوتا تو کیسے ہوتا،
سب کا علم ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6765]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1383
1383. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اولاد مشرکین کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ نے انھیں پیداکیا تھا تو وہ خوب جانتاتھا کہ وہ کیسے عمل کریں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1383]
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے علم کے موافق سلوک کرے گا۔
بظاہر یہ حدیث اس مذہب کی تائید کرتی ہے کہ مشرکوں کی اولاد کے بارے میں توقف کرنا چاہیے۔
امام احمد اور اسحاق اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بیہقی نے امام شافعی سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔
اصولاً بھی یہ کہ نابالغ بچے شرعاً غیر مکلف ہیں، پھر بھی اس بحث کا عمدہ حل یہی ہے کہ وہ اللہ کے حوالہ ہیں جو خوب جانتا ہے کہ وہ جنت کے لائق ہیں یا دوزخ کے۔
مومنین کی اولاد تو بہشتی ہے، لیکن کافروں کی اولاد میں جو نابالغی کی حالت میں مرجائیں بہت اختلاف ہے۔
امام بخاری کا مذہب یہ ہے کہ وہ بہشتی ہیں، کیونکہ بغیر گناہ کے عذاب نہیں ہوسکتا اور وہ معصوم مرے ہیں۔
بعضوں نے کہا اللہ کو اختیار ہے اور اس کی مشیت پر موقوف ہے چاہے بہشت میں لے جائے‘ چاہے دوزخ میں۔
بعضوں نے کہا اپنے ماں باپ کے ساتھ وہ بھی دوزخ میں رہیں گے۔
بعضوں نے کہا خاک ہوجائیں گے۔
بعضوں نے کہا اعراف میں رہیں گے۔
بعضوں نے کہا ان کاامتحان کیا جائے گا۔
واللہ أعلم بالصواب (وحیدي)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1383]