یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب في الحض على التوبة والفرح بها:
باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2746 ترقیم شاملہ: -- 6959
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ جَعْفَرٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ إِيَادٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ،؟ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ، فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ، فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ؟ "، قُلْنَا: شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ "، قَالَ جَعْفَرٌ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ.
یحییٰ بن یحییٰ اور جعفر بن حمید نے ہمیں عبیداللہ بن ایاد بن لقیط سے، انہوں نے ایاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس شخص کی خوشی کے متعلق کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی ایسی بے آب و گیاہ زمین میں، جہاں کھانے کی کوئی چیز ہو نہ پینے کی، اپنی نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی (کسی طرف) نکل گئی۔ اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ اس شخص نے اسے (بہت) ڈھونڈا حتیٰ کہ تھک کر ہار گیا، پھر وہ (اونٹنی چلتے چلتے) ایک درخت کے ٹنڈ منڈ تنے کے پاس سے گزری تو اس کی نکیل کی رسی اس کے ساتھ اٹک گئی اور اس شخص نے اس (اونٹنی) کو اس (تنے) کے ساتھ لگی کھڑی پا لیا؟“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس شخص کی خوشی) بے پناہ ہو گی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ شخص اپنی سواری کو پا کر ہوتا ہے۔“ جعفر نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن ایاد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6959]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم اس انسان کی مسرت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ اس کی سواری اس سے چھوٹ گئی اور اپنی مہار ایک سنسان بے آب و گیاہ زمین جہاں نہ کھانا (خوراک) ہے اور نہ پانی کھینچ رہی ہے اور اس کا کھانا اور پینا اس پر ہے اس نے اس کو تلاش کیا حتی کہ وہ تھک ہار گیا۔" پھر وہ ایک درخت کے تنے سے گزری تو اس کی مہار اٹک گئی تو اس نے اسےدرخت کے ساتھ اٹکا ہوا پایا؟" ہم نے کہا، اس کو انتہائی شدید خوشی ہوگی۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کی قسم! اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے خوشی اس آدمی کو اپنی سواری کے حصول پر خوشی سے زیادہ ہوتی ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 6959 in Urdu
إياد بن لقيط السدوسي ← البراء بن عازب الأنصاري