🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في الحض على التوبة والفرح بها:
باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2745 ترقیم شاملہ: -- 6958
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، فَقَالَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَهُ وَمَزَادَهُ عَلَى بَعِيرٍ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى كَانَ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَأَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ فَنَزَلَ، فَقَالَ: تَحْتَ شَجَرَةٍ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَانْسَلَّ بَعِيرُهُ، فَاسْتَيْقَظَ فَسَعَى شَرَفًا، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَانِيًا، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَالِثًا، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ حَتَّى أَتَى مَكَانَهُ الَّذِي قَالَ فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ قَاعِدٌ إِذْ جَاءَهُ بَعِيرُهُ يَمْشِي حَتَّى وَضَعَ خِطَامَهُ فِي يَدِهِ، فَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ مِنْ هَذَا حِينَ وَجَدَ بَعِيرَهُ عَلَى حَالِهِ "، قَالَ سِمَاكٌ: فَزَعَمَ الشَّعْبِيُّ أَنَّ النُّعْمَانَ رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ.
ابویونس نے سماک سے روایت کی، کہا: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان) بیان کیا: اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوشی ہوتی ہے جس نے اپنا زادراہ اور اپنی پانی کی بڑی مشک کو اونٹ پر لادا، پھر (سفر پر) چل پڑا، یہاں تک کہ جب وہ ایک چٹیل زمین پر تھا تو اسے دوپہر کی نیند نے بے بس کر دیا، وہ اترا اور ایک درخت کے نیچے دوپہر کے آرام کے لیے لیٹ گیا، اس کی آنکھ لگ گئی اور اس کا اونٹ کسی طرف کو نکل گیا، پھر وہ جاگا تو کوشش کر کے ایک ٹیلے پر چڑھا (ہر طرف دیکھا) لیکن اسے کچھ نظر نہ آیا، پھر وہ مشقت اٹھا کر دوسرے ٹیلے پر چڑھا، اسے کچھ نظر نہ آیا، پھر (مزید) مشقت سے تیسرے ٹیلے پر چڑھا تو اسے کچھ نظر نہ آیا، پھر وہ آیا، اسی جگہ پہنچا جہاں دوپہر کا آرام کیا تھا، وہ (اس جگہ) بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا اونٹ چلتا ہوا (واپس) آ گیا اور اپنی مہار (نکیل سے بندھی ہوئی رسی) اس آدمی کے ہاتھ پر گرا دی۔ (اسے اٹھ کر مہار پکڑنے کی زحمت بھی نہ کرنی پڑی) تو اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جب یہ آدمی اپنی سواری کو اس کی اصل حالت میں (زادراہ اور پانی سمیت صحیح سالم) پا لیتا ہے۔ سماک نے کہا: تو شعبی نے سمجھا کہ حضرت نعمان (بن بشیر رضی اللہ عنہ) نے یہ بات مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) بیان کی ہے، لیکن میں نے ان کو (مرفوع بیان کرتے) نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6958]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنا زادِ راہ اور مشکیزہ اونٹ پر لادتا ہے، پھر چل پڑتا ہے حتیٰ کہ جنگل کی زمین پر پہنچتا ہے تو اسے قیلولہ (دوپہر کا آرام) کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ اتر کر ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرتا ہے، سو اسے گہری نیند آ جاتی ہے اور اس کا اونٹ کھسک جاتا ہے، چنانچہ وہ بیدار ہو کر دوڑ کر ایک ٹیلے پر چڑھتا ہے لیکن اسے کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ کوشش کر کے دوسرے ٹیلے پر چڑھتا ہے اور اسے کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیسرے ٹیلے پر دوڑتا ہے اور اسے کچھ نظر نہیں آتا، تو وہ آگے بڑھ کر اس جگہ پر آ جاتا ہے جہاں اس نے دوپہر کے وقت آرام کیا تھا، وہ بیٹھا ہی ہوتا ہے کہ اچانک اس کا اونٹ چلتا ہوا اس کے پاس آ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنی مہار اس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ یقیناً اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس بندے کی اس وقت کی خوشی سے بھی، جو اسے اپنے اونٹ کو اس حال میں پانے سے حاصل ہوئی ہے، زیادہ خوش ہوتا ہے۔ سماک کہتے ہیں کہ امام شعبی کا خیال ہے کہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا لیکن میں نے ان سے یہ نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2745
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← النعمان بن بشير الأنصاري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حاتم بن أبي صغيرة القشيري، أبو يونس
Newحاتم بن أبي صغيرة القشيري ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← حاتم بن أبي صغيرة القشيري
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6308
لله أفرح بتوبة عبده من رجل نزل منزلا وبه مهلكة ومعه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش أو ما شاء الله قال أرجع إلى مكاني فرجع فنام نومة ثم رفع رأسه فإذا راحلته عنده
صحيح مسلم
6958
لله أشد فرحا بتوبة عبده المؤمن من رجل في أرض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه
جامع الترمذي
2498
لله أفرح بتوبة أحدكم من رجل بأرض فلاة دوية مهلكة معه راحلته عليها زاده وطعامه وشرابه وما يصلحه فأضلها فخرج في طلبها حتى إذا أدركه الموت قال أرجع إلى مكاني الذي أضللتها فيه فأموت فيه فرجع إلى مكانه فغلبته عينه فاستيقظ فإذا راحلته عند رأسه عليها طعامه وشرا
Sahih Muslim Hadith 6958 in Urdu