صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب فضل دوام الذكر والفكر في امور الآخرة والمراقبة وجواز ترك ذلك في بعض الاوقات والاشتغال بالدنيا:
باب: ذکر کے دوام اور امور آخرت میں غور و فکر کی فضیلت، اور بعض اوقات اس کو چھوڑنے، اور دنیا کے ساتھ مشغول ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2750 ترقیم شاملہ: -- 6966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ، فَنَسِينَا كَثِيرًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي، وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ".
جعفر بن سلیمان نے سعید بن ایاس جریری سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ (بن ربیع) اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا۔۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے۔۔ کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور دریافت کیا: حنظلہ! آپ کیسے ہیں؟ میں نے کہا: حنظلہ منافق ہو گیا ہے، (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں حتیٰ کہ ایسے لگتے ہیں گویا ہم (انہیں) آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلتے ہیں تو بیویوں، بچوں اور کھیتی باڑی (اور دوسرے کام کاج) کو سنبھالنے میں لگ جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول بھلا جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی کچھ ہمیں بھی پیش آتا ہے، پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں، تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم (جنت اور دوزخ کو) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم آپ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں، بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں۔۔ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے (آ کر) تمہارے ساتھ مصافحے کریں، لیکن اے حنظلہ! کوئی گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور کوئی گھڑی کسی (اور) طرح۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6966]
حضرت حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور پوچھا: ”اے حنظلہ! کیسے ہو؟“ میں نے کہا: ”حنظلہ منافق بن گیا!“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ! ”کیا کہہ رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں، آپ ہمیں دوزخ اور جنت یاد دلاتے ہیں حتیٰ کہ وہ گویا ہمیں نظر آنے لگتے ہیں اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی بیویوں، بچوں اور جاگیر و کاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”تو اللہ کی قسم! ایسی کیفیت سے تو ہم بھی دوچار ہوتے ہیں۔“ چنانچہ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہما دونوں چل پڑے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حنظلہ منافق ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس موجود ہوتے ہیں، آپ ہمیں دوزخ اور جنت کے ذریعے وعظ و نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں، بیویوں، بچوں اور کاروبارِ حیات میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو، جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کریں، لیکن اے حنظلہ! ایسے وقتاً فوقتاً ہی ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6967
| لو كانت تكون قلوبكم كما تكون عند الذكر لصافحتكم الملائكة حتى تسلم عليكم في الطرق |
صحيح مسلم |
6966
| لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم ولكن ساعة وساعة |
جامع الترمذي |
2452
| لو أنكم تكونون كما تكونون عندي لأظلتكم الملائكة بأجنحتها |
جامع الترمذي |
2514
| لو تدومون على الحال الذي تقومون بها من عندي لصافحتكم الملائكة في مجالسكم وفي طرقكم وعلى فرشكم ولكن يا حنظلة ساعة وساعة |
سنن ابن ماجه |
4239
| لو كنتم كما تكونون عندي لصافحتكم الملائكة على فرشكم أو على طرقكم يا حنظلة ساعة وساعة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6966 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6966
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عافسنا:
ہم گھل مل جاتے ہیں،
مشغول ہوجاتے ہیں،
الضيعات،
ضيعة کی جمع ہے،
جاگیر،
زمین یا کاروبار۔
فوائد ومسائل:
فرشتوں کا وظیفہ اور کام ہر وقت بغیر کسی سستی اور کمزوری کے ذکروفکر میں مشغول رہنا ہے اور شیطان کا وظیفہ اور کام ہر وقت شرو فساد میں لگے رہنا ہےاور انسان بسا اوقات ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہے اور بعض اوقات ضروریات زندگی کے حصول میں وقت گزارتا ہے،
ہر وقت ذکرو فکر میں مشغول رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے،
اس لیے ہر وقت ایک کیفیت اور حالت کا نہ رہنا،
نفاق نہیں ہے،
کاروبار حیات میں مشغول ہونا بھی اس کا فطرتی اور طبعی تقاضا ہے،
بلکہ امور زندگی میں ہدایات الہٰی کو ملحوظ رکھنا بھی ذکر ہے،
ہاں اسباب زندگی کے حصول کے وقت اللہ کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
مفردات الحدیث:
عافسنا:
ہم گھل مل جاتے ہیں،
مشغول ہوجاتے ہیں،
الضيعات،
ضيعة کی جمع ہے،
جاگیر،
زمین یا کاروبار۔
فوائد ومسائل:
فرشتوں کا وظیفہ اور کام ہر وقت بغیر کسی سستی اور کمزوری کے ذکروفکر میں مشغول رہنا ہے اور شیطان کا وظیفہ اور کام ہر وقت شرو فساد میں لگے رہنا ہےاور انسان بسا اوقات ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہے اور بعض اوقات ضروریات زندگی کے حصول میں وقت گزارتا ہے،
ہر وقت ذکرو فکر میں مشغول رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے،
اس لیے ہر وقت ایک کیفیت اور حالت کا نہ رہنا،
نفاق نہیں ہے،
کاروبار حیات میں مشغول ہونا بھی اس کا فطرتی اور طبعی تقاضا ہے،
بلکہ امور زندگی میں ہدایات الہٰی کو ملحوظ رکھنا بھی ذکر ہے،
ہاں اسباب زندگی کے حصول کے وقت اللہ کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6966]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4239
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4239]
حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4239]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اپنے ایمان اور قلبی کیفیات کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور ڈرتے تھے کہ کسی نادانستہ غلطی کی وجہ سے ان کے درجات میں کمی نہ آجائے۔
(2)
دل کی کیفیات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
(3)
بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنا اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے دنیا کے معاملات میں مثغول ہونا شرعا مطلوب ہے۔
(4)
انسان کو فرشتوں سے (بعض لحاظ سے)
افضل قراردیا گیا ہے۔
تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایسے حالات میں گھرا ہوا ہے۔
جو اسے اللہ سے غافل کرتے ہیں۔
پھر بھی وہ اللہ کو یاد کرتا اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اپنے ایمان اور قلبی کیفیات کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور ڈرتے تھے کہ کسی نادانستہ غلطی کی وجہ سے ان کے درجات میں کمی نہ آجائے۔
(2)
دل کی کیفیات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
(3)
بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنا اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے دنیا کے معاملات میں مثغول ہونا شرعا مطلوب ہے۔
(4)
انسان کو فرشتوں سے (بعض لحاظ سے)
افضل قراردیا گیا ہے۔
تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایسے حالات میں گھرا ہوا ہے۔
جو اسے اللہ سے غافل کرتے ہیں۔
پھر بھی وہ اللہ کو یاد کرتا اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4239]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2452
باب:۔۔۔
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری وہی کیفیت رہے، جیسی میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2452]
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری وہی کیفیت رہے، جیسی میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2452]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ نیک لوگوں کی مجلس میں رہنے سے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہوتاہے،
آخرت یاد آتی ہے،
اور دنیا کی چاہت کم ہوجاتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ نیک لوگوں کی مجلس میں رہنے سے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہوتاہے،
آخرت یاد آتی ہے،
اور دنیا کی چاہت کم ہوجاتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2452]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2514
باب:۔۔۔
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے)، وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے (بات یہ ہے) کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2514]
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے)، وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے (بات یہ ہے) کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2514]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صحابہ کرام کے زہد و ورع اور تقوی کا ذکر ہے،
معلوم ہواکہ انسان کی حالت و کیفیت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی،
بلکہ اس میں تغیر ہوتا رہتا ہے،
اس لیے انسان جب بھی غفلت کا شکار ہو تو اسے بکثرت ذکر الٰہی کرنا چاہیے،
اور اس حالت کو جس میں غفلت طاری ہو نفاق پرنہیں محمول کرنا چاہیے،
کیوں کہ انسان ہمیشہ ایک ہی حالت و کیفیت کا اپنے آپ کو مکلف بنا کر رکھے یہ ممکن نہیں ہے،
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود ایک ہی آدمی کی ایمانی کیفیت وقتا فوقتا گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔
نوٹ:
(اس حدیث کے شاہد کے لیے ملاحظہ ہو: 2526)
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صحابہ کرام کے زہد و ورع اور تقوی کا ذکر ہے،
معلوم ہواکہ انسان کی حالت و کیفیت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی،
بلکہ اس میں تغیر ہوتا رہتا ہے،
اس لیے انسان جب بھی غفلت کا شکار ہو تو اسے بکثرت ذکر الٰہی کرنا چاہیے،
اور اس حالت کو جس میں غفلت طاری ہو نفاق پرنہیں محمول کرنا چاہیے،
کیوں کہ انسان ہمیشہ ایک ہی حالت و کیفیت کا اپنے آپ کو مکلف بنا کر رکھے یہ ممکن نہیں ہے،
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود ایک ہی آدمی کی ایمانی کیفیت وقتا فوقتا گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔
نوٹ:
(اس حدیث کے شاہد کے لیے ملاحظہ ہو: 2526)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2514]
Sahih Muslim Hadith 6966 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← حنظلة بن الربيع التميمي