🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7037
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ ".
ولید بن جمیع نے کہا: ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ (حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے) کہا: لوگوں نے اس سے کہا: جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ۔ (پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے) کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور (آخرت میں بھی) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے، آپ چل پڑے اور فرمایا: پانی کم ہے، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں پہنچ کر) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7037]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ تبوک کی گھاٹی والوں میں سے ایک کا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا جیسا کہ لوگوں میں ہو ہی جاتا ہے، تو اس نے کہا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اہل عقبہ کتنے اشخاص تھے؟ تو لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب یہ آپ سے پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتا دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ لوگ پندرہ ہو گئے، اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں ان میں سے بارہ وہ ہیں جو دنیا میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والے ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کی معذرت قبول فرمائی، انھوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور نہ ہمیں پتا تھا ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنگریزوں میں چل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے تھوڑا سا پانی آنے والا ہے تو مجھ سے پہلے اس پر کوئی نہ پہنچے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پانی پر پہنچ چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت بھیجی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل
Newعامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن اليمان العبسي
له إدراك
👤←👥الوليد بن عبد الله الزهري
Newالوليد بن عبد الله الزهري ← عامر بن واثلة الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← الوليد بن عبد الله الزهري
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7037 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7037
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے جنگ تبوک سے واپسی کے وقت اعلان کروایا کہ فلاں گھاٹی سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم گزریں گے،
اس لیے ادھر کوئی نہ جائے،
حضرت حذیفہ آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر چل رہے تھے اور عمار پیچھے سے ہانکتے تھے،
ایک مقام پر چند آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے اونٹوں پر سوار آئے اور پیچھے سے عمار رضی اللہ عنہ پر ہلہ بول دیا،
عمار رضی اللہ عنہ نے مڑ کر ان کے اونٹوں کے منہ پر ڈنڈے برسائے،
آپ نے دیکھا تو'' بس،
بس'' کہا،
جب آپ گھاٹی سے اتر کر اونٹنی سے نیچے اترے تو عمار بھی واپس پہنچ گئے،
آپ نے پوچھا،
عمار تم نے ان کو پہچانا ہے؟''انہوں نے کہا،
میں نے اونٹوں کو تو پہچان لیا ہے،
لیکن سواروں نے اپنے سر اور منہ کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھے،
(تفصیل کے لیے دیکھئے،
مختصرسیرۃالرسول،
جامعہ العلوم الاثریہ،
جہلم ص،
نمبر (637)
۔
اس سفر میں واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کو بتایا کہ پانی کم ہے تو آپ نے اعلان کروادیا،
مجھ سے پہلے کوئی شخص چشمہ پر نہ جائے،
لیکن آپ سے کچھ لوگ پہلے پہنچ گئے تو آپ نے ان پر لعنت بھیجی،
یہ لوگ معتب بن قثیہ،
حارث بن یزید طائی،
ودیعہ بن ثابت اور زید بن معیت تھے اور یہ چاروں منافق تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7037]

Sahih Muslim Hadith 7037 in Urdu