یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2780 ترقیم شاملہ: -- 7039
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوِ الْمَرَارِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ.
یحییٰ بن حبیب حارثی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قرہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا۔“ (آگے) معاذ عنبری کی حدیث کے مانند، البتہ (اس حدیث میں) انہوں نے کہا: اور وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈنے کے لیے اعلان کرنے کے لیے آیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7039]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ثنیہ مرار یا مرار پر کون چڑھے گا؟"آگے مذکورہ روایت ہے،ہاں یہ فرق ہے اس میں یہ ہے کہ وہ ایک جنگلی تھا جو اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2780
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7039 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7039
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ثنیتہ المرار وہ گھاٹی ہے،
جس میں حدیبیہ کے سفر میں آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تھی،
اس پر آپ نے ساتھیوں کو گھاٹی کے اوپر چڑھنے کی ترغیب دلائی،
تاکہ پتا چل سکے،
قریش کے گھوڑے کدھر ہیں،
بعض کا خیال ہے،
سرخ اونٹ کا مالک جدبن قیس منافق تھا،
لیکن یہ درست نہیں ہے،
کیونکہ جد بن قیس تو لشکر کے ساتھ آیا تھا،
اگرچہ اس نے بیعت رضوان میں شرکت نہیں کی تھی۔
فوائد ومسائل:
ثنیتہ المرار وہ گھاٹی ہے،
جس میں حدیبیہ کے سفر میں آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تھی،
اس پر آپ نے ساتھیوں کو گھاٹی کے اوپر چڑھنے کی ترغیب دلائی،
تاکہ پتا چل سکے،
قریش کے گھوڑے کدھر ہیں،
بعض کا خیال ہے،
سرخ اونٹ کا مالک جدبن قیس منافق تھا،
لیکن یہ درست نہیں ہے،
کیونکہ جد بن قیس تو لشکر کے ساتھ آیا تھا،
اگرچہ اس نے بیعت رضوان میں شرکت نہیں کی تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7039]
Sahih Muslim Hadith 7039 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري