صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت والے دن زمین کی حالت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2790 ترقیم شاملہ: -- 7055
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ ".
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی، سفید زمین پر اکٹھا کیا جائے گا، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہوتی ہے اور اس میں کسی شخص کے لیے کوئی علامت موجود نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7055]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ سفید زمین پر جو سرخی مائل ہو گی، جیسا کہ میدہ کی روٹی ہوتی ہے، جمع کیے جائیں گے اور اس زمین میں کسی شخص کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا، یعنی کوئی گھر، عمارت اور نشان نہ ہو گا، صاف چٹیل میدان ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6521
| يحشر الناس يوم القيامة على أرض بيضاء عفراء كقرصة نقي |
صحيح مسلم |
7055
| يحشر الناس يوم القيامة على أرض بيضاء عفراء كقرصة النقي ليس فيها علم لأحد |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7055 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7055
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
قیامت کے دن زمین میدے کی پکی ہوئی سرخی مائل گول روٹی کی طرح ہو گی،
جس پر کسی قسم کا گھر،
عمارت یا نشان راہ نہیں ہوگا،
بالکل صاف چٹیل میدان ہوگی،
جس پر کسی قسم کاکوئی گناہ اورمعصیت کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہوگا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
قیامت کے دن زمین میدے کی پکی ہوئی سرخی مائل گول روٹی کی طرح ہو گی،
جس پر کسی قسم کا گھر،
عمارت یا نشان راہ نہیں ہوگا،
بالکل صاف چٹیل میدان ہوگی،
جس پر کسی قسم کاکوئی گناہ اورمعصیت کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7055]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6521
6521. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن لوگوں کو سفید اور سرخی آمیز زمین پر اکٹھا کیا جائے گا جو سفید میدے کی روٹی کی طرح ہوگی۔ ”سہل وغیرہ نے کہا: اس زمین پر کسی چیز کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6521]
حدیث حاشیہ:
یعنی اس میں کوئی مکان، راستہ، باغ، ٹیلہ یا پہاڑ نہ ہوگا۔
آیات قرآنیہ بتاتی ہیں کہ حشر کی زمین اور ہوگی جیسا کہ آیت ﴿ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ (إبراهیم: 48)
سے ظاہر ہے۔
یعنی اس میں کوئی مکان، راستہ، باغ، ٹیلہ یا پہاڑ نہ ہوگا۔
آیات قرآنیہ بتاتی ہیں کہ حشر کی زمین اور ہوگی جیسا کہ آیت ﴿ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ (إبراهیم: 48)
سے ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6521]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6521
6521. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن لوگوں کو سفید اور سرخی آمیز زمین پر اکٹھا کیا جائے گا جو سفید میدے کی روٹی کی طرح ہوگی۔ ”سہل وغیرہ نے کہا: اس زمین پر کسی چیز کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6521]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس وقت زمین پر کوئی مکان، راستہ، باغ، پہاڑ یا دریا وغیرہ نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ زمین کی شکل و صورت کو بدل دیا جائے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل کر دیے جائیں گے۔
“ (إبراھیم: 48/14) (2)
قرآن کریم کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔
سب پہاڑ زمین بوس کر دیے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیے جائیں گے۔
اسی طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کر دیا جائے گا۔
چونکہ سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے، اس طرح موجودہ زمین سے تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور نشیب و فراز کے بجائے تمام زمین ہموار ہو گی۔
(3)
اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔
اعمال تولنے کے لیے میزان بھی اسی زمین پر رکھی جائے گی پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزا و سزا کے فیصلے بھی اسی جگہ ہوں گے۔
الحاصل اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے زمین کی موجودہ شکل کو تبدیل کر دے گا اور اس میں طعام کی صلاحیت پیدا کر کے اسے روٹی بنا دیا جائے گا تاکہ محشر کے طویل زمانہ میں اہل ایمان اپنے قدموں کے نیچے سے کھائیں اور انہیں اتنی طویل مدت تک بھوکا رہنے سے تکلیف نہ ہو، سالن کے طور پر بیل کی کلیجی اور مچھلی کے ٹکڑے مہیا کیے جائیں گے۔
واللہ المستعان
(1)
اس وقت زمین پر کوئی مکان، راستہ، باغ، پہاڑ یا دریا وغیرہ نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ زمین کی شکل و صورت کو بدل دیا جائے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل کر دیے جائیں گے۔
“ (إبراھیم: 48/14) (2)
قرآن کریم کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔
سب پہاڑ زمین بوس کر دیے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیے جائیں گے۔
اسی طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کر دیا جائے گا۔
چونکہ سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے، اس طرح موجودہ زمین سے تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور نشیب و فراز کے بجائے تمام زمین ہموار ہو گی۔
(3)
اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔
اعمال تولنے کے لیے میزان بھی اسی زمین پر رکھی جائے گی پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزا و سزا کے فیصلے بھی اسی جگہ ہوں گے۔
الحاصل اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے زمین کی موجودہ شکل کو تبدیل کر دے گا اور اس میں طعام کی صلاحیت پیدا کر کے اسے روٹی بنا دیا جائے گا تاکہ محشر کے طویل زمانہ میں اہل ایمان اپنے قدموں کے نیچے سے کھائیں اور انہیں اتنی طویل مدت تک بھوکا رہنے سے تکلیف نہ ہو، سالن کے طور پر بیل کی کلیجی اور مچھلی کے ٹکڑے مہیا کیے جائیں گے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6521]
Sahih Muslim Hadith 7055 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي