صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نزل اهل الجنة:
باب: اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2792 ترقیم شاملہ: -- 7057
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ: فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَال: بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ بَلَى، قَالَ: تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: " إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ، قَالُوا: وَمَا هَذَا؟، قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روٹی بن جائے گی۔ جبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر روٹی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے۔“ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آ گیا اس نے کہا: ابوالقاسم الرحمن آپ پر برکت نازل فرمائے! کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: زمین ایک (بڑی سی) روٹی بن جائے گی۔ جس طرح (اس کی آمد سے قبل خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ (ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتیٰ کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ اس نے (پھر) کہا: کیا میں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیل اور مچھلی، یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو (جو اصل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہوتا ہے) ستر ہزار لوگ کھائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7057]
حضرت خدری ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہو گی جبار(کنٹرولر)اہل جنت کی مہمانی کے لیے، اپنے ہاتھ میں اس طرح الٹ پلٹ کرے گا۔ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں اپنی روٹی الٹتا پلٹتا ہے۔"ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، اتنے میں ایک یہودی آدمی آگیا اور کہنے لگا اے ابو القاسم!رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے، کیا میں آپ کو قیامت کے دن اہل جنت کی ابتدائی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟آپ نے فرمایا:" کیوں نہیں۔"اس نے کہا زمین ایک روٹی ہو گی، (جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتا چکے تھے) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے طرف دیکھا پھر ہنس پڑے حتی کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں اس نے کہا، کیا میں آپ کو ان کے سالن کی خبر نہ دوں؟ آپ نے فرمایا:" کیوں نہیں۔"اس نے کہا ان کا سالن بالام اور نون ہوگئے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا یہ کیا ہیں۔"اس نے کہا، بیل اور مچھلی ان کے جگر کے بڑھے ہوئے ٹکڑے سے ستر ہزار افراد کھائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2792
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6520
| تكون الأرض يوم القيامة خبزة واحدة يتكفؤها الجبار بيده كما يكفأ أحدكم خبزته في السفر نزلا لأهل الجنة |
صحيح مسلم |
7057
| تكون الأرض يوم القيامة خبزة واحدة يكفؤها الجبار بيده كما يكفأ أحدكم خبزته في السفر نزلا لأهل الجنة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7057 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7057
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
قیامت کے دن جنت میں جانے والوں کے لیے زمین روٹی کی طرح بن جائے گی اور وہ اس کو بیل اور مچھلی کے گوشت کے ساتھ کھائیں گے،
تاکہ میدان محشر میں وہ بھوک سے محفوظ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر،
روٹی کی طرح پھیلا دے گا،
تاکہ اس کو کھانا آسان ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
قیامت کے دن جنت میں جانے والوں کے لیے زمین روٹی کی طرح بن جائے گی اور وہ اس کو بیل اور مچھلی کے گوشت کے ساتھ کھائیں گے،
تاکہ میدان محشر میں وہ بھوک سے محفوظ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر،
روٹی کی طرح پھیلا دے گا،
تاکہ اس کو کھانا آسان ہو جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7057]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6520
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت يد ہاتھ کا اثبات
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6520]
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6520]
� فوائد و مسائل:
یہ حدیث [صحيح مسلم:2792،7057، مسند عبد بن حميد:962، شرح السنه للبغوي:114،113/15 ح4306 وقال:هذا حديث متفق على صحته، البعث لا بي عوانه اتحاف المهرة:330/5 ح5491] اور [التوحيد لابن خزيمه:ص73،74 ح98] میں موجود ہے۔
اس میں «يتكفؤها الجبار بيده...» کا مطلب ہے کہ اسے جبار (اللہ) اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص دسترخوان پر روٹی کو الٹتا پلٹتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت «يد» ہاتھ کا اثبات ہے اور مثال کے ذریعے سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ زمیں گول کے بجائے چپٹی ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے ہرگز تشبیہ نہیں دی گئی مگر معترض نے لکھا ہے:
یہ حدیث [صحيح مسلم:2792،7057، مسند عبد بن حميد:962، شرح السنه للبغوي:114،113/15 ح4306 وقال:هذا حديث متفق على صحته، البعث لا بي عوانه اتحاف المهرة:330/5 ح5491] اور [التوحيد لابن خزيمه:ص73،74 ح98] میں موجود ہے۔
اس میں «يتكفؤها الجبار بيده...» کا مطلب ہے کہ اسے جبار (اللہ) اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص دسترخوان پر روٹی کو الٹتا پلٹتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت «يد» ہاتھ کا اثبات ہے اور مثال کے ذریعے سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ زمیں گول کے بجائے چپٹی ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے ہرگز تشبیہ نہیں دی گئی مگر معترض نے لکھا ہے:
”لیکن امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا . . .“ (ص21)
ملتانی کی یہ بات کالا جھوٹ ہے۔ حدیث مذکور میں اللہ تعالیٰ کا روٹیاں پکانا بالکل موجود نہیں ہے۔[توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث/صفحہ نمبر: 31]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6520
6520. حضرت ابو خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی بن جائے گی جسے اللہ تعالٰی اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتا ہے۔ پھر ایک یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابو القاسم! تم پر رحمن برکت نازل فرمائے، کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کی خبر نہ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ اس نے کہا: قیامت کے دن یہ زمین ایک روٹی کی شکل اختیار کرلے گی جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر اتنا ہنسے کہ آپکے دانت نمایاں نظر آنے لگے۔ پھر اس نےکہا: میں تمہیں اہل جنت کے سالن کی خبر نہ دوں؟ کہنے لگا: ان کا سالن بالام اور نون ہوگا۔ صحابہ کرام نے کہا: یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے زائد ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6520]
حدیث حاشیہ:
اللہ اکبر کتنی عظیم الشان نعمت سے مہمانی کی جائے گی۔
بالام عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی بیل ہی کے صحیح ہیں اور نون مچھلی کو کہتے ہیں، یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔
قرآن مجید میں بھی مچھلی کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔
مذکورہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
اللهم اجعلنا منهم آمین۔
اللہ اکبر کتنی عظیم الشان نعمت سے مہمانی کی جائے گی۔
بالام عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی بیل ہی کے صحیح ہیں اور نون مچھلی کو کہتے ہیں، یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔
قرآن مجید میں بھی مچھلی کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔
مذکورہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
اللهم اجعلنا منهم آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6520]
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري