صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب ابتداء الخلق وخلق آدم عليه السلام:
باب: مخلوق اور آدم علیہ السلام کی ابتداء کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2789 ترقیم شاملہ: -- 7054
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ (کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں) پیدا فرمایا۔“ جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حسین بن علی بسطامی، سہل بن عمار، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7054]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مٹی (خاک، زمین) کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن پیدا کیے اور درخت سوموار کو پیدا کیے اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور (روشنی) کو بدھ کے دن پیدا کیا، اور زمین میں چوپائے جمعرات کے دن پھیلائے اور آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات کے بعد، جمعہ کے دن، عصر کے وقت جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں عصر سے شام تک پیدا کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2789
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7054 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7054
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے،
منگل کے دن تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزوں کے ساتھ،
مضبوط ومستحکم چیزوں کو،
جوزندگی کے لیے قیام اور تدبیر کا باعث ہیں،
جیسے لوہا اور معدنیات کوبھی پیداکیا اور بدھ کے نور کے ساتھ نون(مچھلی)
اور سمندروں کو بھی پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق،
کائنات کی تخلیق کے فورا بعد نہیں ہوئی،
بلکہ آسمان وزمین کی پیدائش کےبعدکسی اورجمعہ کے دن ہوئی ہے،
اس لیے یہ حدیث ان قرآنی آیات کے منافی نہیں ہے،
جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان وزمین اور وَمَا بَيْنَهُمَا کی تخلیق چھ دن میں ہوئی ہے۔
قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین اور زمینی اشیاء چار دن میں پیدا کی گئی ہیں اور پھر دودن میں آسمان اور اس کی اشیاء پیدا کی گئی ہیں۔
(سورہ حم السجدہ: 1،
2)
اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے یہ دونوں زمینی اشیاء بھی پیدا کی گئی ہیں۔
فوائد ومسائل:
بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے،
منگل کے دن تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزوں کے ساتھ،
مضبوط ومستحکم چیزوں کو،
جوزندگی کے لیے قیام اور تدبیر کا باعث ہیں،
جیسے لوہا اور معدنیات کوبھی پیداکیا اور بدھ کے نور کے ساتھ نون(مچھلی)
اور سمندروں کو بھی پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق،
کائنات کی تخلیق کے فورا بعد نہیں ہوئی،
بلکہ آسمان وزمین کی پیدائش کےبعدکسی اورجمعہ کے دن ہوئی ہے،
اس لیے یہ حدیث ان قرآنی آیات کے منافی نہیں ہے،
جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان وزمین اور وَمَا بَيْنَهُمَا کی تخلیق چھ دن میں ہوئی ہے۔
قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین اور زمینی اشیاء چار دن میں پیدا کی گئی ہیں اور پھر دودن میں آسمان اور اس کی اشیاء پیدا کی گئی ہیں۔
(سورہ حم السجدہ: 1،
2)
اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے یہ دونوں زمینی اشیاء بھی پیدا کی گئی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7054]
Sahih Muslim Hadith 7054 in Urdu
عبد الله بن رافع المخزومي ← أبو هريرة الدوسي