صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الدخان:
باب: دھوئیں کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2798 ترقیم شاملہ: -- 7066
أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ، فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ: يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ "، قَالَ: فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ، وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ، فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صحیح) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابوعبدالرحمان! ابواب کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے، لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ» ”کہہ دیجیے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: «اَللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام» ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے۔)“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صاف کرایا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ» سے لے کر «إِنَّكُمْ عَائِدُونَ» تک ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ (اور وہ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ سے لے کر ”بے شک تم (کفر میں) لوٹ جانے والے ہو۔“ تک۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ» ”جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے (اس دن) ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ وہ گرفت بدر کے دن تھی۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب (بدر میں شکست فاش اور قتل) اور روم (کی فتح) کی نشانی (سب) آکر گذر چکی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7066]
امام مسروق بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابو عبدالرحمان! ابوابِ کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے: لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] ”کہہ دیجئے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: «اللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ» ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے)۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صفایا کر دیا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ * هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ * رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ * أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ * ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ * إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 10 - 15] ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ جو لوگوں پر چھا جائے گا، جو المناک عذاب ہوگا، (کہیں گے) اے ہمارے رب! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے، ہم ایمان لے آئیں گے، اس وقت انہیں نصیحت کہاں کارگر ہوگی، حالانکہ ان کے پاس رسول مبین (کھول کر بیان کرنے والا) آ چکا ہے، پھر انہوں نے اس سے منہ موڑا اور کہنے لگے، یہ تو سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ ہم تھوڑی دیر عذاب ہٹا دیں گے، مگر تم پھر وہی کرو گے جو پہلے کرتے رہے۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹا دیا جائے گا؟ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم سخت گرفت کریں گے، پھر انتقام لے کر رہیں گے۔“ سو پکڑے سے مراد بدر کا دن ہے، دھوئیں والی نشانی گزر چکی ہے، اسی طرح پکڑ، لزام (قتل و قید) اور روم کی فتح گزر چکی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7066]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7066 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7066
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک سورۂدخان میں،
جس دھوئیں کا تذکرہ کیا گیا ہے،
اس سے مراد وہ خیالی اور تصوراتی دھواں ہے،
جو قریش مکہ کو بھوک کی وجہ سے نظر آتا تھا،
حالانکہ قرآن میں جس دھوئیں کا تذکرہ ہے،
وہ حقیقی اور صریح دھواں ہے،
جو سب لوگوں کو نظر آئے گا،
اس لیے حافظ ابن کثیر رحمہُ اللہُ نے اس سے قیامت والا دھواں ہی مراد لیا ہے،
حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور آگے حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت آرہی ہے،
وہ بھی اس کے مؤید ہے اور بعض ضعیف احادیث میں،
یہی بات مختلف صحابہ سے منقول ہے،
اسی طرح بطشۂ کبریٰ سے مراد،
حضرت ابن مسعود کے نزدیک بدر کا دن ہے،
جبکہ دوسری تفسیر کے مطابق قیامت کی پکڑ مراد ہے اور حافظ ابن کثیر نے،
حضرت عبداللہ بن مسعود کے اس اعتراض کہ کیا قیامت کا عذاب کچھ وقت کے لیے ہٹایا جائے گا،
کایہ جواب دیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے،
گر ہم تم سے عذاب ہٹا دیں اور تمہیں پھر دنیا میں لوٹا دیں تو تم پھر بھی وہی کفر کرو گے،
جو پہلے کرتے تھے،
كاشف العذاب سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ عذاب آنے کے اسباب مکمل ہو چکے ہیں اور عذاب تمہارے قریب آچکاہے،
مگر کچھ روز کے لیے ہم اسے مؤخر کردیتےہیں،
جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا نہیں تھا،
صرف عذاب کے آثار نظر آئے تھے،
لیکن قرآن میں اس کو كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ (ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا)
سے تعبیر کیا ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک سورۂدخان میں،
جس دھوئیں کا تذکرہ کیا گیا ہے،
اس سے مراد وہ خیالی اور تصوراتی دھواں ہے،
جو قریش مکہ کو بھوک کی وجہ سے نظر آتا تھا،
حالانکہ قرآن میں جس دھوئیں کا تذکرہ ہے،
وہ حقیقی اور صریح دھواں ہے،
جو سب لوگوں کو نظر آئے گا،
اس لیے حافظ ابن کثیر رحمہُ اللہُ نے اس سے قیامت والا دھواں ہی مراد لیا ہے،
حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور آگے حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت آرہی ہے،
وہ بھی اس کے مؤید ہے اور بعض ضعیف احادیث میں،
یہی بات مختلف صحابہ سے منقول ہے،
اسی طرح بطشۂ کبریٰ سے مراد،
حضرت ابن مسعود کے نزدیک بدر کا دن ہے،
جبکہ دوسری تفسیر کے مطابق قیامت کی پکڑ مراد ہے اور حافظ ابن کثیر نے،
حضرت عبداللہ بن مسعود کے اس اعتراض کہ کیا قیامت کا عذاب کچھ وقت کے لیے ہٹایا جائے گا،
کایہ جواب دیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے،
گر ہم تم سے عذاب ہٹا دیں اور تمہیں پھر دنیا میں لوٹا دیں تو تم پھر بھی وہی کفر کرو گے،
جو پہلے کرتے تھے،
كاشف العذاب سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ عذاب آنے کے اسباب مکمل ہو چکے ہیں اور عذاب تمہارے قریب آچکاہے،
مگر کچھ روز کے لیے ہم اسے مؤخر کردیتےہیں،
جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا نہیں تھا،
صرف عذاب کے آثار نظر آئے تھے،
لیکن قرآن میں اس کو كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ (ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا)
سے تعبیر کیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7066]
Sahih Muslim Hadith 7066 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود