صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب طلب الكافر الفداء بملء الارض ذهبا:
باب: کافروں سے زمین بھر سونا بطور فدیہ طلب کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2805 ترقیم شاملہ: -- 7086
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ.
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: ”تو اس سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، تم سے تو اس سے بہت آسان (بات کا) مطالبہ کیا گیا تھا“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7086]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت اس فرق سے بیان کرتے ہیں: ”تو اسے کہا جائے گا تم جھوٹ بولتے ہو، تم سے ایسی چیز کا مطالبہ کیا گیا، جو اس سے بہت آسان تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7086 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7086
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
كذبت تم جھوٹ بولتے ہو،
کا مقصد یہ ہے،
اگر تمہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو تم یہ فدیہ اور تاوان ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگے،
کیونکہ تم نے اس سے انتہائی آسان اور سہل کام بھی نہیں کیا،
اگرچہ آخرت میں وہ عذاب سے نجات پانے کے لیے دنیا و مافیہا دینے کے لیے تیار ہوگا،
اس لیے اللہ کا فرمان:
وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿٢٨﴾ (سورة الانعام: 28)
"اور اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو پھر وہی کریں گے،
جس سے انہیں منع کیا گیا تھا،
یہ دراصل جھوٹے لوگ ہیں۔
''
فوائد ومسائل:
كذبت تم جھوٹ بولتے ہو،
کا مقصد یہ ہے،
اگر تمہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو تم یہ فدیہ اور تاوان ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگے،
کیونکہ تم نے اس سے انتہائی آسان اور سہل کام بھی نہیں کیا،
اگرچہ آخرت میں وہ عذاب سے نجات پانے کے لیے دنیا و مافیہا دینے کے لیے تیار ہوگا،
اس لیے اللہ کا فرمان:
وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿٢٨﴾ (سورة الانعام: 28)
"اور اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو پھر وہی کریں گے،
جس سے انہیں منع کیا گیا تھا،
یہ دراصل جھوٹے لوگ ہیں۔
''
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7086]
Sahih Muslim Hadith 7086 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري