🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب يحشر الكافر على وجهه:
باب: کافر کا حشر منہ کے بل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2806 ترقیم شاملہ: -- 7087
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لزهير، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ: " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ قتادہ نے (حدیث سنانے کے بعد) کہا: کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ قادر ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7087]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن کافر کو اس کے چہرے کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس نے اسے دنیا میں اس کے دونوں پاؤں پر چلایا ہے، وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل چلا دے؟ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت و قدرت کی قسم! [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2806
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد
Newيونس بن محمد المؤدب ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يونس بن محمد المؤدب
ثقة حافظ
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6523
الذي أمشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحيح البخاري
4760
الذي أمشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحيح مسلم
7087
الذي أمشاه على رجليه في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7087 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7087
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
احوال قیامت کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنے کے نتیجہ میں اور قدرت الٰہی سے صرف نظر کرنے کی بنا پر بہت سی باتوں کو عجیب خیال کیا جاتا ہے،
حالانکہ آخرت کے حالات کو دنیا پر قیاس کرنا درست نہیں ہے،
جس طرح دنیا کی زندگی کو ماں کے پیٹ والی زندگی پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے،
اسی طرح الٰہی قدرت کو نظر انداز کر کے کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کرنا اشکال و اعتراض کا باعث ہے،
اگر قدرت الٰہی پر نظر ہو تو کسی قسم کا اشکال یا شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7087]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4760
4760. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4760]
حدیث حاشیہ:
قیامت کے دن ایک منظر یہ بھی ہوگا کہ کفار ومشرکین منہ کے بل چلائے جائیں گے جس سے ان کی انتہائی ذلت وخواری ہوگی۔
اللھم لا تجعلنا منھم آمین!
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4760]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4760
4760. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4760]
حدیث حاشیہ:

وہ کافر جو دنیا میں اللہ کے حضور جھکتے نہیں تھے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرنے کے لیے اوندھے منہ چلنے پر مجبور کردے گا۔
دنیا میں جس طرح انسان اپنے پاؤں کے ذریعے سے راستے کی اذیت سے بچتا ہے قیامت کے دن وہ منہ کے ذریعے سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
(فتح الباري: 465/11)

قرآن کریم میں صراط مستقیم سے ہٹ کر دوسرا راستہ اختیار کرنا اس کے لیے ان الفاظ کو بطور تمثیل بھی بیان کیا گیا ہےجیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
کیا وہ شخص زیادہ ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلتا ہے یا وہ جو سیدھا راہ راست پر چلتا ہے۔
(الملك: 22)
منہ کے بل اوندھا چلنے والے کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں ہی سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقیناً نہیں پہنچ سکتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4760]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6523
6523. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کافر کا چہرے کے بل کیسے حشر کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ ذات جس نے اسے دنیا میں دونوں پاؤں پر چلایا ہے اسے قدرت نہیں کہ اسے قیامت کے دن چہرے کے بل چلا دے۔؟۔ (راوی حدیث) قتادہ نے کہا: کیوں نہیں ہمارے رب کی عزت و آبرو کی قسم! وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6523]
حدیث حاشیہ:
(1)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قیامت کے دن ہم ان (کافروں)
کو اوندھے منہ، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے۔
ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(بني إسرائیل: 97/17)
اس آیت کے پیش نظر صحابی نے سوال کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔
(2)
بہرحال قانون جزا و سزا اور اعمال انسان میں مماثلت پائی جاتی ہے، جیسے کوئی شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کو بھولا رہا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بھلا دے گا، جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آنکھیں بند کر لیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اندھا کر کے اٹھائے گا۔
اسی طرح کافر جب دنیا میں اللہ کو سجدہ نہیں کرتا تھا تو اس کی ذلت و رسوائی کو ظاہر کرنے کے لیے قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلایا جائے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حکمت کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 465/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6523]

Sahih Muslim Hadith 7087 in Urdu