🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب الاقتصاد في الموعظة:
باب: وعظ میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2821 ترقیم شاملہ: -- 7127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، فَقُلْنَا: أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ: إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا "،
ابومعاویہ نے اعمش سے اور انہوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ان (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دیں۔ وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمایا: مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کر دی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈر سے صرف بعض دنوں میں ہی وعظ و نصیحت سے نوازا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7127]
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے یزید بن معاویہ نخعی رحمہ اللہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا: حضرت عبداللہ کو ہماری موجودگی سے آگاہ کرو۔ وہ ان کے پاس گئے اور جلد ہی ہمارے پاس عبداللہ رضی اللہ عنہ آگئے اور کہنے لگے: مجھے تمہاری آمد کی اطلاع دی جاتی ہے، مگر میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا ناپسند کرتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف ایام میں وعظ و نصیحت کے وقت ہمارا دھیان رکھتے تھے کہ کہیں ہم اکتا ہی نہ جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2821
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7127 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7127
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے،
وعظ ونصیحت میں اس قدر طول بیانی سے کام نہیں لینا چاہیے کہ لوگ اکتا جائیں،
اگر روزانہ وعظ کہنا ہو تو وقت کم لینا چاہیے،
یا پھر وقفہ وقفہ سے بعض دن چھوڑ کر وعظ کرنا چاہیے،
ہاں وتدریس کا کام روزانہ کیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7127]

Sahih Muslim Hadith 7127 in Urdu