صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب الاقتصاد في الموعظة:
باب: وعظ میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2821 ترقیم شاملہ: -- 7127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، فَقُلْنَا: أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ: إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا "،
ابومعاویہ نے اعمش سے اور انہوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ان (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دیں۔ وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمایا: ”مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کر دی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈر سے صرف بعض دنوں میں ہی وعظ و نصیحت سے نوازا کرتے تھے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7127]
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے یزید بن معاویہ نخعی رحمہ اللہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا: ”حضرت عبداللہ کو ہماری موجودگی سے آگاہ کرو۔“ وہ ان کے پاس گئے اور جلد ہی ہمارے پاس عبداللہ رضی اللہ عنہ آگئے اور کہنے لگے: ”مجھے تمہاری آمد کی اطلاع دی جاتی ہے، مگر میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا ناپسند کرتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف ایام میں وعظ و نصیحت کے وقت ہمارا دھیان رکھتے تھے کہ کہیں ہم اکتا ہی نہ جائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2821
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7127 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7127
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے،
وعظ ونصیحت میں اس قدر طول بیانی سے کام نہیں لینا چاہیے کہ لوگ اکتا جائیں،
اگر روزانہ وعظ کہنا ہو تو وقت کم لینا چاہیے،
یا پھر وقفہ وقفہ سے بعض دن چھوڑ کر وعظ کرنا چاہیے،
ہاں وتدریس کا کام روزانہ کیا جائے گا۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے،
وعظ ونصیحت میں اس قدر طول بیانی سے کام نہیں لینا چاہیے کہ لوگ اکتا جائیں،
اگر روزانہ وعظ کہنا ہو تو وقت کم لینا چاہیے،
یا پھر وقفہ وقفہ سے بعض دن چھوڑ کر وعظ کرنا چاہیے،
ہاں وتدریس کا کام روزانہ کیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7127]
Sahih Muslim Hadith 7127 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود