صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب صفة الجنة
باب: جنت کی صفات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2824 ترقیم شاملہ: -- 7132
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ مِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17 ".
سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا ہے“۔ کتاب اللہ میں اس کا مصداق (یہ آیت) ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (السجدہ: 17) ”کسی کو معلوم نہیں کہ جو نیک کام کرتے رہے ان کی جزا کے طور پر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا جو چھپا کر رکھا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7132]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ عزوجل کا ارشاد ہے، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔"اس کی تصدیق اللہ کی کتاب کی یہ آیت کرتی ہے کوئی شخص ان نعمتوں کو نہیں جانتا، جو ان کے لیے چھپا کر رکھی گئی ہیں، جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہے، یہ ان کے عملوں کا بدلہ ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔(السجدہ نمبر17) [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7132 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7132
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس آیت اور حدیث میں نیک بندوں کے لیے بشارت دی گئی ہے کہ دور آخرت میں ان کو ایسی اعلیٰ قسم کی نعمتیں ملیں گی،
جو دنیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوئیں،
بلکہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا بھی نہیں اور نہ کسی کان نے ان حال سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال ہی آیا،
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان نیک بندوں میں شامل فرمائے،
آمین۔
اس آیت مبارکہ میں جنت کی نعمتوں کو عملوں کا بدلہ قرار دیا گیا ہے لیکن جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت وفضل کی بنیاد پر ہوگا اور رحمت و فضل کا سبب انسان کے اعمال صالحہ ہوں گے۔
فوائد ومسائل:
اس آیت اور حدیث میں نیک بندوں کے لیے بشارت دی گئی ہے کہ دور آخرت میں ان کو ایسی اعلیٰ قسم کی نعمتیں ملیں گی،
جو دنیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوئیں،
بلکہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا بھی نہیں اور نہ کسی کان نے ان حال سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال ہی آیا،
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان نیک بندوں میں شامل فرمائے،
آمین۔
اس آیت مبارکہ میں جنت کی نعمتوں کو عملوں کا بدلہ قرار دیا گیا ہے لیکن جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت وفضل کی بنیاد پر ہوگا اور رحمت و فضل کا سبب انسان کے اعمال صالحہ ہوں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7132]
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي