صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب صفة الجنة
باب: جنت کی صفات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2825 ترقیم شاملہ: -- 7135
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: " فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ {16} فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ {17} سورة السجدة آية 16-17 ".
ابوحازم نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آپ نے بات ختم کی۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا: ”اس (جنت) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا“۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (السجدہ: 16-17) ”ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ پس کوئی ذی حیات (انسان) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا (کچھ) چھپا کر رکھا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7135]
حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی مجلس میں حاضر ہوا، جس میں آپ نے جنت کے بارے میں بتایا جنت کی نعمتوں کے بارے میں بیان کرنے کے بعد فرمایا:"اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں، جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے نہ کسی کان نے سنا ہے،اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی "ان کے پہلو،بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس سے خرچ کرتے ہیں، کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا چیزیں ان کے لیے چھپا رکھی گئی ہیں،یہ ان عملوں کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔اس حدیث اور آیت مبارکہ سے معلوم ہوا جنت میں صرف وہی نعمتیں نہیں ہیں جن کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے بلکہ ان کے سوا بھی بے شمار نعمتیں جن کا علم جنت میں داخلہ کے بعد ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2825
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي