یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب وجوب الغسل على المراة بخروج المني منها:
باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 314 ترقیم شاملہ: -- 715
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ سَهْلٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا، أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ ".
مسافع بن عبداللہ نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، کیا (بچے کی) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے! جب (نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 715]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے اور وہ منی دیکھے، تو غسل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں اور انہیں زخم پہنچے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت سے کہو، اسے چھوڑ، مشابہت تو اس بنا پر ہوتی ہے جب اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے، تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے، اور جب مرد کا پانی غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 715]
ترقیم فوادعبدالباقی: 314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 715 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 715
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الَّت:
اسے الَّه یعنی نیزہ لگے،
زخمی ہو۔
فوائد ومسائل:
بچہ مرد اور عورت دونوں کے نطفہ کے امتزاج (آمیزش)
سے پیدا ہوتا ہے اور مشابہت کا انحصار کثرت وغلبہ پر ہے،
جس کا مادہ غالب ہو گا دوسرے کو اپنے اندر دبائےگا بچہ اس کے مشابہ ہو گا۔
مفردات الحدیث:
الَّت:
اسے الَّه یعنی نیزہ لگے،
زخمی ہو۔
فوائد ومسائل:
بچہ مرد اور عورت دونوں کے نطفہ کے امتزاج (آمیزش)
سے پیدا ہوتا ہے اور مشابہت کا انحصار کثرت وغلبہ پر ہے،
جس کا مادہ غالب ہو گا دوسرے کو اپنے اندر دبائےگا بچہ اس کے مشابہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 715]
Sahih Muslim Hadith 715 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق