پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب في دوام نعيم اهل الجنة وقوله تعالى: {ونودوا ان تلكم الجنة اورثتموها بما كنتم تعملون}.
باب: جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔
ترقیم عبدالباقی: 2837 ترقیم شاملہ: -- 7157
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لإسحاق، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْأَغَرّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا، فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43 ".
ثوری نے کہا: مجھے ابواسحٰق نے حدیث بیان کی، (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) اغر (ابن عبداللہ) نے انھیں حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: یقیناً تمھارے لیے یہ (انعام بھی) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہو گے، کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہو گے، کبھی زحمت نہ دیکھو گے“۔ یہی اللہ عزوجل کا فرمان (واضح کرتا) ہے: ﴿وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ (الأعراف: 43) ”اور انھیں ندا دے کر کہا جائے گا کہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے رہے وارث بنا دیے گئے ہو“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7157]
حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک پکارنے والا (جنتیوں کو مخاطب کر کے) پکارے گا، تمھارا حق ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، اس لیے تم کبھی بیمار نہیں پڑو گے اور تمھارے لیے زندگی اور حیات ہی ہے اس لیے اب تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تمھارے لیے جوانی اور شباب ہی ہے۔ چنانچہ تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے سکھ اور چین ہی ہے، سو کبھی تمھیں تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [سورة الأعراف: 43] ”انھیں آواز دی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تمھیں تمھارے عملوں کے سبب بنایا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7157]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2837
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7157 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7157
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنت صرف آرام اور راحت کا دائمی اور لازوال گھر ہے،
جو کبھی فنا پذیر نہیں ہوگا،
اس کو دوام اور ثبات حاصل ہے،
اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا فساد کا گزر نہیں ہوگا،
اس لیے وہاں کسی تکلیف کا یا کسی تکلیف دہحالت کا گذر نہیں ہوگا،
نہ وہاں بیماری آئے گی اور نہ موت آئے گی،
نہ بڑھاپا کسی کو ستائے گا،
نہ جوانی ڈھلے گی اور نہ کسی اور قسم کی تنگی اور پریشانی کسی جنتی کو لاحق ہوگی،
اس لیے جب جنتی،
جنت میں چلے جائیں گے تو شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی زندگی اور دائمی راحت کا مثردہ سنا کر،
ان کو مطمئن کر دیا جائے گا اور اللہ کے اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے،
''انہیں ندا آئے گی،
یہ وہ جنت ہے،
جس کے وارث تم ان عملوں کے سبب بنائے گئے ہو،
جو تم کرتے رہے ہو۔
''(اعراف،
آیت نمبر 43)
فوائد ومسائل:
جنت صرف آرام اور راحت کا دائمی اور لازوال گھر ہے،
جو کبھی فنا پذیر نہیں ہوگا،
اس کو دوام اور ثبات حاصل ہے،
اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا فساد کا گزر نہیں ہوگا،
اس لیے وہاں کسی تکلیف کا یا کسی تکلیف دہحالت کا گذر نہیں ہوگا،
نہ وہاں بیماری آئے گی اور نہ موت آئے گی،
نہ بڑھاپا کسی کو ستائے گا،
نہ جوانی ڈھلے گی اور نہ کسی اور قسم کی تنگی اور پریشانی کسی جنتی کو لاحق ہوگی،
اس لیے جب جنتی،
جنت میں چلے جائیں گے تو شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی زندگی اور دائمی راحت کا مثردہ سنا کر،
ان کو مطمئن کر دیا جائے گا اور اللہ کے اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے،
''انہیں ندا آئے گی،
یہ وہ جنت ہے،
جس کے وارث تم ان عملوں کے سبب بنائے گئے ہو،
جو تم کرتے رہے ہو۔
''(اعراف،
آیت نمبر 43)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7157]
Sahih Muslim Hadith 7157 in Urdu
الأغر بن عبد الله المديني ← أبو سعيد الخدري