یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نزول الفتن كمواقع القطر:
باب: فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2887 ترقیم شاملہ: -- 7250
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا؟، قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟، قَالَ: " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ، فَيَقْتُلُنِي، قَالَ: " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ "،
حماد بن زید نے کہا: ہمیں عثمان الشحام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے، وہ اپنی زمین میں تھے، ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا: کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے (اپنے والد) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب فتنے برپا ہوں گے، سن لو! پھر (اور) فتنے برپا ہوں گے، ان (کے دوران) میں بیٹھا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، یاد رکھو! جب وہ نازل ہو گا یا واقع ہوں گے تو جس کے (پاس) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ زمین میں چلا جائے۔“ (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس نہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں، نہ زمین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی تلوار لے، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے (کند کر دے) اور پھر اگر بچ سکے تو بچ نکلے! اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ کہا: تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے مجبور کر دیا جائے اور لے جا کر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنائے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اگر تم نے وار نہ کیا ہو) تو وہ اپنے اور تمھارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7250]
عثمان الشحام رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے،وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا:کیا آپ نے اپنےوالد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟انھوں نے کہا:ہاں،میں نے(اپنے والد) حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحدیث بیان کرتے ہوئے سنا،انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا:"عنقریب فتنے برپا ہوں گے سن لو!پھر(اور)فتنے برپا ہوں گے،ان(کےدوران) میں بیٹھا رہنے و الا چلے والے سے بہتر ہوگا،اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگایاد رکھو!جب وہ نازل ہوگا یا واقع ہوں گے تو جس کے(پاس) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے،جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلاجائے اور جس کی زمین وہ زمین میں چلاجائے۔"(حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:تو ایک شخص نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس کےبارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس یہ اونٹ ہوں،نہ بکریاں،نہ زمین؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"وہ اپنی تلوار کا رخ کرے اور اس کی دھار پتھر سے کوٹ دے،یعنی ہتھیار ضائع کردے،تاکہ وہ لڑائی میں حصہ نہ لے سکے،پھر اگر بچ سکےتو بچ نکلے!اے اللہ!کیا میں نے(حق) پہنچا دیا؟اے اللہ! کیا میں نے (حق)پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔کہا:تو ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر مجھے مجبور کردیا جائے اور لے جاکر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کردیاجائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنادے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2887
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥مسلم بن أبي بكرة الثقفي مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عثمان بن ميمون العدوي، أبو سلمة عثمان بن ميمون العدوي ← مسلم بن أبي بكرة الثقفي | مقبول | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← عثمان بن ميمون العدوي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل الفضيل بن الحسين الجحدري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7081
| ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم القائم فيها خير من الماشي الماشي فيها خير من الساعي من تشرف لها تستشرفه من وجد منها ملجأ أو معاذا فليعذ به |
صحيح البخاري |
7082
| ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم القائم خير من الماشي الماشي فيها خير من الساعي من تشرف لها تستشرفه من وجد ملجأ أو معاذا فليعذ به |
صحيح مسلم |
7250
| تكون فتنة النائم فيها خير من اليقظان واليقظان فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الساعي فمن وجد ملجأ أو معاذا فليستعذ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7250 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7250
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس فتنہ سے مراد وہ فتنہ ہے،
جس میں انسان پر حق واضح نہ ہو،
یا فتنہ میں حصہ لینے سے اس کا مزید بڑھکنا لازم آتا ہو،
فائدہ کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے،
لیکن اگر حق واضح ہو اور زیادتی کرنے والے فرد یا افراد کو روکنا ضروری ہو،
یا فتنہ فرو ہوسکتا ہوتو پھر حق والے گروہ کا ساتھ دے کر،
فتنہ کا دروازہ بند کرنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
اس فتنہ سے مراد وہ فتنہ ہے،
جس میں انسان پر حق واضح نہ ہو،
یا فتنہ میں حصہ لینے سے اس کا مزید بڑھکنا لازم آتا ہو،
فائدہ کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے،
لیکن اگر حق واضح ہو اور زیادتی کرنے والے فرد یا افراد کو روکنا ضروری ہو،
یا فتنہ فرو ہوسکتا ہوتو پھر حق والے گروہ کا ساتھ دے کر،
فتنہ کا دروازہ بند کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7250]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7081
7081. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسے فتنے رونما ہوں گے کہ ان میں بیٹھ رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو شخص ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے گا وہ (فتنے) اسے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ایسے حالات میں جس کسی کو کوئی بھی جائے پناہ یا تحفظ کی جگہ مل جائے وہ اس میں چلا جائے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7081]
حدیث حاشیہ:
تاکہ ان فتنوں سے محفوظ رہے۔
مراد وہ فتنہ ہے جو مسلمانوں میں آپس میں پیدا ہوا اور یہ نہ معلوم ہو سکے کہ حق کس طرف ہے‘ ایسے وقت میں گوشہ نشینی بہتر ہے۔
بعضوں نے کہا اس شہر سے ہجرت کر جائے جہاں ایسا فتنہ واقع ہوا گروہ آفت میں مبتلا ہو جائے اور کوئی اس کو مارنے آئے تو صبر کرے۔
مارا جائے لیکن مسلمان پر ہاتھ نہ اٹھائے۔
بعضوں نے کہا اپنی جان ومال کو بچا سکتا ہے۔
جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ جب کوئی گروہ امام سے باغی ہو جائے تو امام کے ساتھ ہو کر اس سے لڑنا جائز ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا اور اکثر اکابر صحابہ نے ان کے ساتھ ہو کر معاویہ رضی اللہ عنہ کے باغی گروہ کا مقابلہ کیا اور یہی حق ہے مگر بعض صحابہ جیسے سعد اور ابن عمر اور ابو بکر رضی اللہ عنہم دونوں فریق سے الگ ہو کر گھر میں بیٹھے رہے۔
تاکہ ان فتنوں سے محفوظ رہے۔
مراد وہ فتنہ ہے جو مسلمانوں میں آپس میں پیدا ہوا اور یہ نہ معلوم ہو سکے کہ حق کس طرف ہے‘ ایسے وقت میں گوشہ نشینی بہتر ہے۔
بعضوں نے کہا اس شہر سے ہجرت کر جائے جہاں ایسا فتنہ واقع ہوا گروہ آفت میں مبتلا ہو جائے اور کوئی اس کو مارنے آئے تو صبر کرے۔
مارا جائے لیکن مسلمان پر ہاتھ نہ اٹھائے۔
بعضوں نے کہا اپنی جان ومال کو بچا سکتا ہے۔
جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ جب کوئی گروہ امام سے باغی ہو جائے تو امام کے ساتھ ہو کر اس سے لڑنا جائز ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا اور اکثر اکابر صحابہ نے ان کے ساتھ ہو کر معاویہ رضی اللہ عنہ کے باغی گروہ کا مقابلہ کیا اور یہی حق ہے مگر بعض صحابہ جیسے سعد اور ابن عمر اور ابو بکر رضی اللہ عنہم دونوں فریق سے الگ ہو کر گھر میں بیٹھے رہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7081]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7082
7082. حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر کوئی ان کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی محفوظ جگہ یا جائے پناہ پائے تو اسے اس میں پناہ لے لیتی چاہیے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7082]
حدیث حاشیہ:
1۔
حدیث میں ذکر کردہ درجہ بندی فتنوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے متعلق بیان ہوئی ہے۔
مختلف احادیث کے پیش نظر شر میں کمی بیشی کا اعتبار حسب ذیل ترتیب سے ہوگا:
۔
بھاگ دوڑکرنے والا۔
۔
پیدل چلنے والا۔
۔
کھڑا ہونے والا۔
۔
بیٹھنے والا۔
۔
لیٹنے والا۔
۔
سونے والا۔
ان میں زیادہ منحوس اور ناپسندیدہ وہ ہوں گے جو ان فتنوں میں کوشش کرنے والے اور انھیں ہوا دینے والے ہوں گے، انھیں بھاگ دوڑ کرنے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہوگا جو ان فتنوں کا سبب تو نہیں ہوں گے لیکن انھیں بھڑکانے والے ہوں گے۔
انھیں پیدل چلنے والے کہا گیا ہے۔
ان سے کم وہ ہوں گے جوان میں دلچسپی لینے والے ہوں گے، انھیں کھڑا ہونے والا کہا گیا ہے۔
پھر وہ لوگ جو تماشائی ہوں گے لیکن جنگ وقتال میں حصہ نہیں لیں گے، انھیں بیٹھنے والے کہا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہے جو ان فتنوں کو اچھا خیال کرے گا لیکن تماشائی نہیں ہوگا، اسے لیٹنے والے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سب سے کم درجہ اس شخص کا ہے جو کچھ بھی نہ کرے اور انھیں بُرا بھی نہ کہے، اسے سونے والا کہا گیا ہے، یعنی جو شرارت میں کم ہوگا وہ ان میں بہتر اور جو زیادہ ہوگا وہ ان میں بدتر ہوگا۔
(فتح الباري: 39/13)
2۔
واضح رہےکہ اس سے وہ زمانہ مراد ہے جس میں ملک گیری اور کرسی کی ہوس پر اختلاف ہو اور حق وباطل کے درمیان امتیاز مشکل ہو جائے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:
صحابی نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا کب ہوگا؟ فرمایا:
”ایام ہرج میں، جب انسان اپنے پاس بیٹھنے والے پر بھی اعتماد نہیں کرے گا۔
“ (فتح الباري: 40/13 وسنن أبي داود، الفتن، حدیث: 4258)
1۔
حدیث میں ذکر کردہ درجہ بندی فتنوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے متعلق بیان ہوئی ہے۔
مختلف احادیث کے پیش نظر شر میں کمی بیشی کا اعتبار حسب ذیل ترتیب سے ہوگا:
بھاگ دوڑکرنے والا۔
پیدل چلنے والا۔
کھڑا ہونے والا۔
بیٹھنے والا۔
لیٹنے والا۔
سونے والا۔
ان میں زیادہ منحوس اور ناپسندیدہ وہ ہوں گے جو ان فتنوں میں کوشش کرنے والے اور انھیں ہوا دینے والے ہوں گے، انھیں بھاگ دوڑ کرنے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہوگا جو ان فتنوں کا سبب تو نہیں ہوں گے لیکن انھیں بھڑکانے والے ہوں گے۔
انھیں پیدل چلنے والے کہا گیا ہے۔
ان سے کم وہ ہوں گے جوان میں دلچسپی لینے والے ہوں گے، انھیں کھڑا ہونے والا کہا گیا ہے۔
پھر وہ لوگ جو تماشائی ہوں گے لیکن جنگ وقتال میں حصہ نہیں لیں گے، انھیں بیٹھنے والے کہا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہے جو ان فتنوں کو اچھا خیال کرے گا لیکن تماشائی نہیں ہوگا، اسے لیٹنے والے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سب سے کم درجہ اس شخص کا ہے جو کچھ بھی نہ کرے اور انھیں بُرا بھی نہ کہے، اسے سونے والا کہا گیا ہے، یعنی جو شرارت میں کم ہوگا وہ ان میں بہتر اور جو زیادہ ہوگا وہ ان میں بدتر ہوگا۔
(فتح الباري: 39/13)
2۔
واضح رہےکہ اس سے وہ زمانہ مراد ہے جس میں ملک گیری اور کرسی کی ہوس پر اختلاف ہو اور حق وباطل کے درمیان امتیاز مشکل ہو جائے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:
صحابی نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا کب ہوگا؟ فرمایا:
”ایام ہرج میں، جب انسان اپنے پاس بیٹھنے والے پر بھی اعتماد نہیں کرے گا۔
“ (فتح الباري: 40/13 وسنن أبي داود، الفتن، حدیث: 4258)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7082]
Sahih Muslim Hadith 7250 in Urdu
مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي