صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب إذا تواجه المسلمان بسيفيهما:
باب: دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7256
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، وَتَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک یہ تھی) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں باہم جنگ آزما ہوں گی۔ ان دونوں کے درمیان بڑی قتل و غارت گری ہو گی، جبکہ دونوں ایک ہی (بات یعنی حق کی نصرت کا) دعویٰ کرتے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7256]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمام منبہ رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو بڑی جماعتیں نہیں لڑیں گی۔ ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوگی اور ان کا دعوی ایک ہی ہو گا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7256 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7256
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان دو عظیم گروہوں سے مراد حجرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ ہیں،
جو دونوں ہی مسلمان تھے اور دونوں ہی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوئی۔
جس میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ میں خلیفہ ہوں اس لیے اللہ کے احکام کی تنفیذ کا تقاضا یہ ہے کہ سب لوگ میری اطاعت و فرماں برداری میں داخل جو اس سے باز رہتے ہیں ان سے جنگ کرنا درست ہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے ہیں ان سے قصاص لینا دین و شریعت کا تقاضا ہے اور قاتلین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پناہ لیے ہیں لہذا جب تک وہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص نہیں لیتے اس وقت تک ان کی اطاعت ضروری نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
ان دو عظیم گروہوں سے مراد حجرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ ہیں،
جو دونوں ہی مسلمان تھے اور دونوں ہی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوئی۔
جس میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ میں خلیفہ ہوں اس لیے اللہ کے احکام کی تنفیذ کا تقاضا یہ ہے کہ سب لوگ میری اطاعت و فرماں برداری میں داخل جو اس سے باز رہتے ہیں ان سے جنگ کرنا درست ہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے ہیں ان سے قصاص لینا دین و شریعت کا تقاضا ہے اور قاتلین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پناہ لیے ہیں لہذا جب تک وہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص نہیں لیتے اس وقت تک ان کی اطاعت ضروری نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7256]
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي