🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب تقوم الساعة والروم اكثر الناس:
باب: قیامت کے قریب رومی عیسائیوں کی اکثریت ہو گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2898 ترقیم شاملہ: -- 7279
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ "، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَبْصِرْ مَا تَقُولُ، قَالَ: أَقُولُ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَئِنْ، قُلْتَ: " ذَلِكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ، وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ، وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ ".
موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت آئے گی تو رومی (عیسائی) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ انہوں نے کہا: میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے) کہا: اگر تم نے یہ کہا ہے، تو ان میں چار خصلتیں ہیں، وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہیں، اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں، اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں، اور مسکینوں، یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں، اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7279]
حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت قائم ہوگی جبکہ رومی (عیسائی) سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سوچ لو کیا کہہ رہے ہو! انہوں نے کہا: وہی کہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہ کہتے ہو تو اس (کثرت) کا سبب یہ ہے کہ ان میں چار خوبیاں ہیں؛ وہ مصیبت و آزمائش کے وقت سب لوگوں سے بردبار ہیں اور سب سے زیادہ جلد آزمائش سے ہوش میں آتے ہیں اور سب سے جلد شکست کے بعد حملہ کرتے ہیں (بددل ہو کر اور حوصلہ ہار کر بیٹھ نہیں جاتے) اور مسکین، یتیم اور کمزور کے حق میں سب سے بہتر ہیں اور ان میں ایک پانچویں صفت ہے جو انتہائی اچھی اور خوب ہے اور سب سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم سے بچانے والے ہیں یا سب سے زیادہ بادشاہوں کو ظلم سے روکنے والے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2898
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المستورد بن شداد القرشيصحابي
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← المستورد بن شداد القرشي
ثقة
👤←👥موسى بن علي اللخمي، أبو عبد الرحمن
Newموسى بن علي اللخمي ← علي بن رباح اللخمي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← موسى بن علي اللخمي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الملك بن شعيب الفهمي، أبو عبد الله
Newعبد الملك بن شعيب الفهمي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7279 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7279
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان خصائل اور خوبیوں کو بیان کیا،
جن کی بنا پر کوئی قوم ترقی اور عروج حاصل کرتی ہے،
اور ان کو اکثریت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ وہ خوبیوں ہیں جو مسلمانوں میں ہونی چاہیے،
لیکن بدقسمتی سے مسلمان ان سے محروم ہورہے ہیں،
اس لیے انحطاط وزوال کا شکار ہیں اور عیسائی بڑھ رہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7279]

Sahih Muslim Hadith 7279 in Urdu