صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب في فتح قسطنطينية وخروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم:
باب: قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کے نکلنے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے آنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2897 ترقیم شاملہ: -- 7278
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا، قَالَتْ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا، فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ، إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِذَا جَاءُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ رومی (عیسائی) اعماق (شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پر فضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے) یا دابق میں اتریں گے۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے (دمشق) شہر سے (یا مدینہ سے) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا، جب وہ (دشمن کے سامنے) صف آراء ہوں گے، تو رومی (عیسائی) کہیں گے: تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنھوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے، ہم ان سے لڑیں گے، تو مسلمان کہیں گے: اللہ کی قسم! نہیں، ہم تمھارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ وہ ان (عیسائیوں) سے جنگ کریں گے، ان (مسلمانوں) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے، اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا، اور ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے، وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے، اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے، وہ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے (ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے) اور قسطنطنیہ کو (دوبارہ) فتح کریں گے (پھر) جب وہ غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے، اور اپنے ہتھیار انہوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے، تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا: مسیح (دجال) تمھارے پیچھے تمھارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے، وہ نکل پڑیں گے، مگر یہ جھوٹ ہو گا۔ جب وہ شام (دمشق) پہنچیں گے، تو وہ نمودار ہو جائے گا۔ اس دوران میں جب وہ جنگ کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے، تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی، اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے، تو ان کا رخ کریں گے، پھر جب اللہ کا دشمن (دجال) ان کو دیکھے گا، تو اس طرح پگھلے گا، جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے، اگر وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اسے چھوڑ بھی دیں، تو وہ پگھل کر ہلاک ہو جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے ہاتھ سے قتل کرائے گا، اور لوگوں کو ان کے ہتھیار پر اس کا خون دکھائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7278]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ رومی (عیسائی) اعماق (شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پر فضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے) یا دابق میں اتریں گے۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے (دمشق) شہر سے (یا مدینہ سے) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا، جب وہ (دشمن کے سامنے) صف آراء ہوں گے تو رومی (عیسائی) کہیں گے: تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے، ہم ان سے لڑیں گے۔ تو مسلمان کہیں گے: اللہ کی قسم! نہیں، ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ وہ ان (عیسائیوں) سے جنگ کریں گے۔ ان (مسلمانوں) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے، اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا اور ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے، وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے، وہ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے (ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے) اور قسطنطنیہ کو (دوبارہ) فتح کریں گے۔ (پھر) جب وہ غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنے ہتھیار انہوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا: مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے، وہ نکل پڑیں گے مگر یہ جھوٹ ہو گا۔ جب وہ شام (دمشق) پہنچیں گے تو وہ نمودار ہو جائے گا۔ اس دوران میں جب وہ جنگ کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی، اس وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو ان کا رخ کریں گے، پھر جب اللہ کا دشمن (دجال) ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے، اگر وہ (عیسیٰ علیہ السلام) اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہو جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل کرائے گا سو وہ لوگوں کو اپنے نیزے میں اس کا خون دکھائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7278 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7278
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خلو ابيننا وبين الذين سبوا منا:
رومی عیسائی مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا کام نکالنے کے لیے کہیں گے کہ ہمیں ان لوگوں سے لڑنے دو،
جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا،
دوسرے لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے،
اس طرح دھوکا دہی اور فریب سے کام نکالنا چاہیں گے،
لیکن مسلمان ان کے فریب میں نہیں آئیں گے،
لیکن بدقسمتی آج کل عیسائیوں کا یہ حربہ کارگر ہے،
وہ مسلمانوں میں تفریق اور پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں اورجيش من المدينه کے بارے میں دوقول ہیں۔
(1)
اس سے مراد،
مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے،
(2)
اس سے مراد شام کا شہر دمشق یا حلب ہے،
اعماق اور دابق،
حلب کے قریب واقع ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں قسطنطیہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا،
پھر مسلمان اس پر غالب آجائیں گے،
اس کے بعد مسیح دجال اور پھرعیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے گا،
اس لیے اللہ اس کو گھلنے نہیں دے گا،
اگرچہ وہ گھلنا شروع ہوجائے گا۔
مفردات الحدیث:
خلو ابيننا وبين الذين سبوا منا:
رومی عیسائی مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا کام نکالنے کے لیے کہیں گے کہ ہمیں ان لوگوں سے لڑنے دو،
جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا،
دوسرے لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے،
اس طرح دھوکا دہی اور فریب سے کام نکالنا چاہیں گے،
لیکن مسلمان ان کے فریب میں نہیں آئیں گے،
لیکن بدقسمتی آج کل عیسائیوں کا یہ حربہ کارگر ہے،
وہ مسلمانوں میں تفریق اور پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں اورجيش من المدينه کے بارے میں دوقول ہیں۔
(1)
اس سے مراد،
مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے،
(2)
اس سے مراد شام کا شہر دمشق یا حلب ہے،
اعماق اور دابق،
حلب کے قریب واقع ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں قسطنطیہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا،
پھر مسلمان اس پر غالب آجائیں گے،
اس کے بعد مسیح دجال اور پھرعیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے گا،
اس لیے اللہ اس کو گھلنے نہیں دے گا،
اگرچہ وہ گھلنا شروع ہوجائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7278]
Sahih Muslim Hadith 7278 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي