صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيتمنى ان يكون مكان الميت من البلاء:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2908 ترقیم شاملہ: -- 7303
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَتَلَ، وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ قُتِلَ ".
ابن ابی عمر مکی نے ہمیں یہ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مروان نے یزید سے، اور وہ ابن کیسان ہے، حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور نہ مقتول کو پتہ ہو گا کہ اسے کس بات پر قتل کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7303]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم! جس کےہاتھ میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا،قاتل کو پتہ نہیں ہوگا، اس نے قتل کیوں،کس سبب کی بنا پر کیا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا، اسے اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2908
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين يزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← يزيد بن كيسان اليشكري | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله محمد بن أبي عمر العدني ← مروان بن معاوية الفزاري | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7303 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7303
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
ایک ایساوقت ہوگا،
جس میں قتل و غارت عام ہو جائے گی اور اس کو کوئی عیب یا گناہ نہیں سمجھا جائے گا،
بلکہ بلا سبب یا بغیر کسی وجہ سے قتل کا ارتکاب کیا جائے گا،
شاید جس دور سے ہم گزر رہے ہیں،
اس میں یہ کام شروع ہو چکا ہو،
معمولی معمولی اور حقیر باتوں پر قتل ہورہے ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
ایک ایساوقت ہوگا،
جس میں قتل و غارت عام ہو جائے گی اور اس کو کوئی عیب یا گناہ نہیں سمجھا جائے گا،
بلکہ بلا سبب یا بغیر کسی وجہ سے قتل کا ارتکاب کیا جائے گا،
شاید جس دور سے ہم گزر رہے ہیں،
اس میں یہ کام شروع ہو چکا ہو،
معمولی معمولی اور حقیر باتوں پر قتل ہورہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7303]
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي