صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2924 ترقیم شاملہ: -- 7345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا "، فَقَالَ: دُخٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمھارے لیے (دل میں) ایک بات چھپائی ہے۔“ وہ دُخَ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دور دفع ہو جا! تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7345]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے (امتحان کے) لیے ایک چیز دل میں پوشیدہ رکھی ہے۔“ اس نے کہا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل و خوار رہ، تو ہرگز اپنی حیثیت سے تجاوز نہیں کر سکے گا۔“ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے چھوڑیے کہ میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑیے! اگر یہ وہ ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7345 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7345
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خبات لك خبيا:
میں نے تیرے لیے دل میں ایک چیز چھپائی ہے۔
(2)
اخسا:
ذلیل وخوار ہوکر رہ،
ذلیل ہوکر دور ہوجا۔
فوائد ومسائل:
آپ نے اپنے ذہن میں یہ آیت رکھی تھی:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٠﴾ (الدخان: 10)
لیکن کاہنوں کی طرف اسے شیطانی الہام سے ایک نامکمل لفظ کا پتہ چل سکا اس لیے آپ نے فرمایا،
تم کاہن کی حیثیت سے تجاوز نہیں کرسکو گے۔
مفردات الحدیث:
(1)
خبات لك خبيا:
میں نے تیرے لیے دل میں ایک چیز چھپائی ہے۔
(2)
اخسا:
ذلیل وخوار ہوکر رہ،
ذلیل ہوکر دور ہوجا۔
فوائد ومسائل:
آپ نے اپنے ذہن میں یہ آیت رکھی تھی:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٠﴾ (الدخان: 10)
لیکن کاہنوں کی طرف اسے شیطانی الہام سے ایک نامکمل لفظ کا پتہ چل سکا اس لیے آپ نے فرمایا،
تم کاہن کی حیثیت سے تجاوز نہیں کرسکو گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7345]
Sahih Muslim Hadith 7345 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود