Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2925 ترقیم شاملہ: -- 7346
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ، مَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، وَمَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ، وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ "،
حریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس (ابن صیاد) سے ملاقات ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کو یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کا معاملہ خود) اس کے سامنے گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7346]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدینہ کے کسی راستہ میں ابن صیاد سے ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:" کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔"تو اس نے جواباً آپ کا سوال دہرایا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں،تجھے کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا مجھے پانی پر تخت نظر آتا ہے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تجھے سمندر پر ابلیس کا تخت نظر آتا ہے تو اور کیا دیکھتا ہے؟"اس نے کہا میں دو سچے ایک چھوٹا یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے۔ اسے چھوڑدو۔" [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2925
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥سالم بن نوح البصري، أبو سعيد
Newسالم بن نوح البصري ← سعيد بن إياس الجريري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← سالم بن نوح البصري
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7346 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7346
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابن صیاد نے آپ ہی کا سوال دہرایا،
صراحتا اپنی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا،
اس لیے آپ نے بھی صراحتا اس کی نبوت کا انکار نہیں کیا،
ایک اصولی بات فرمائی اور اس کو نظر انداز کردیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7346]