صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ:
باب: دجال کے وصف اور اس پر مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2938 ترقیم شاملہ: -- 7377
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ، فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ، فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا؟، فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ، فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ؟، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ، فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ، فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي، قَالَ: فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي؟، فَيَقُولُ: مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ، فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا، فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ".
ابووذاک نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گا، اسے اسلحہ بردار محافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردار محافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے، کہا: جانا چاہتے ہو؟ وہ کہے گا: میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو (اب) نمودار ہوا ہے، وہ اس سے کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے؟ وہ کہے گا: ہمارے رب (کی ربوبیت اور صفات) میں کوئی پوشیدگی نہیں، وہ (اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے) کہیں گے: اس کو قتل کر دو۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس (کے سامنے پیش کرنے) سے پہلے کسی کو قتل نہ کرو۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا: لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ فرمایا: تو دجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس (کے اعضاء) کو کھینچ کر باندھ دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: اسے پکڑو اور اس کا سر اور منہ توڑ دو، تو (مار مار کر) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کر دی جائے گی۔ فرمایا: پھر وہ (دجال) کہے گا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤ گے؟ فرمایا: تو وہ کہے گا: تم جھوٹے (بناوٹی) مسیح ہو۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا، یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے۔ فرمایا: پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا۔ پھر اس سے کہے گا: کھڑے ہو جاؤ، چنانچہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ فرمایا: وہ پھر اس سے کہے گا: کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟ وہ کہے گا: (اس سب کچھ سے) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔ فرمایا: پھر وہ شخص کہے گا: لوگو! یہ (دجال) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔ فرمایا: دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک (کا حصہ) تانبے کا بنایا جائے گا، وہ کسی طریقے سے (اسے ذبح) نہ کر سکے گا۔ فرمایا: تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے اس (دجال) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ (اصل میں وہ) جنت میں ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7377]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گا، اسے اسلحہ بردار محافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردار محافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے: کہاں جانا چاہتے ہو؟ وہ کہے گا: میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو (اب) نمودار ہوا ہے۔ وہ اس سے کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے؟ وہ کہے گا: ہمارے رب (کی ربوبیت اور صفات) میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔ وہ (اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے) کہیں گے: اس کو قتل کر دو۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس (کے سامنے پیش کرنے) سے پہلے کسی کو قتل نہ کریں؟ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا: لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ فرمایا: تو دجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس (کے اعضا) کو کھینچ کر باندھ دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: اسے پکڑو اور اس کا سر اور منہ توڑ دو، تو (مار مار کر) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کر دی جائے گی۔ فرمایا: پھر وہ (دجال) کہے گا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤ گے؟ فرمایا: تو وہ کہے گا: تم جھوٹے (بناوٹی) مسیح ہو۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے۔ فرمایا: پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا، پھر اس سے کہے گا: کھڑے ہو جاؤ، چنانچہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ فرمایا: وہ پھر اس سے کہے گا: کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟ وہ کہے گا: (اس سب کچھ سے) تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔ فرمایا: پھر وہ شخص کہے گا: لوگو! یہ (دجال) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔ فرمایا: دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک (کا حصہ) تانبے کا بنایا جائے گا، وہ کسی طریقے سے (اسے ذبح) نہ کر سکے گا۔ فرمایا: تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے اس (دجال) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ (اصل میں وہ) جنت میں ڈال دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رب العالمین کے ہاں سب سے بڑا (عظیم درجے والا) شہید ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7377 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7377
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مسالح،
مسلحة کی جمع ہے،
ہتھیار بند۔
مراد دجال کا ہر اول دستہ ہے،
(2)
يشبح:
اسے پھیلایا جائے گا،
زمین پر چت لٹایا جائے گا،
(3)
منشار،
چیرنے کا آلہ،
آرا۔
مفردات الحدیث:
(1)
مسالح،
مسلحة کی جمع ہے،
ہتھیار بند۔
مراد دجال کا ہر اول دستہ ہے،
(2)
يشبح:
اسے پھیلایا جائے گا،
زمین پر چت لٹایا جائے گا،
(3)
منشار،
چیرنے کا آلہ،
آرا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7377]
Sahih Muslim Hadith 7377 in Urdu
جبر بن نوف الهمداني ← أبو سعيد الخدري