صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب في خروج الدجال ومكثه في الارض ونزول عيسى وقتله إياه وذهاب اهل الخير والإيمان وبقاء شرار الناس وعبادتهم الاوثان والنفخ في الصور وبعث من في القبور:
باب: خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اسے قتل کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2940 ترقیم شاملہ: -- 7382
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا، قُلْتُ: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا، فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا: أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍوَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا: آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں (بات پوری ہو جائے) پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں، میں تو یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہو گیا۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا۔“ اور (اس کے بعد محمد بن جعفر نے) معاذ کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”کوئی ایک شخص بھی جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو، نہیں بچے گا مگر وہ (ہوا) اس کی روح قبض کر لے گی۔“ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اور میں نے (کئی بار) اسے ان کے سامنے دہرایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7382]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں واقعات تک قیامت قائم ہو جائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہیں کوئی چیز نہ بتاؤں (کیونکہ بات کو صحیح طور پر سمجھتے نہیں ہو)، میں نے تو محض یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا حادثہ دیکھ لوگے، پھر بیت اللہ کو جلا دیا گیا (شعبہ نے یہ یا اس قسم کا لفظ کہا)۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نکلے گا۔“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس حدیث میں «مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ» ”ذرہ برابر ایمان“ کے الفاظ ہیں، «خَيْرٍ» ”بھلائی“ کا لفظ نہیں ہے۔ شعبہ نے یہ حدیث محمد بن جعفر کو کئی دفعہ سنائی اور انہوں نے بھی ان پر اسے پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7382 in Urdu
اسم مبهم ← عبد الله بن عمرو السهمي