Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة وغسل الرجل والمراة في إناء واحد في حالة واحدة وغسل احدهما بفضل الآخر:
باب: غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار، اور شوہر اور بیوی کا ایک برتن سے پانی لے کر ایک حالت میں غسل کرنا، اور ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 326 ترقیم شاملہ: -- 739
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ، أَوَ قَالَ: وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ، وقَالَ: وَقَدْ كَانَ كَبِرَ، وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے ابوریحانہ سے، انہوں نے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے (ابوبکر نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی (حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیتے۔ (علی) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا (ابوریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے) ایک مد پانی سے آپ کا وضو ہو جاتا تھا کہا۔ ابوریحانہ نے کہا: سفینہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 739]
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو فرما لیتے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا، «يَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ» کہا یا «يُطَهِّرُهُ الْمُدُّ»، کہا، ابو ریحانہ رحمہ اللہ نے کہا، سفینہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 739]
ترقیم فوادعبدالباقی: 326
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥سفينة مولى النبي، أبو البختري، أبو عبد الرحمن
Newسفينة مولى النبي ← أبو بكر الصديق
صحابي
👤←👥عبد الله بن مطر البصري، أبو ريحانة
Newعبد الله بن مطر البصري ← سفينة مولى النبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← عبد الله بن مطر البصري
ثقة حجة حافظ
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← علي بن حجر السعدي
ثقة حجة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
739
يغتسل بالصاع يتطهر بالمد
صحيح مسلم
738
يغسله الصاع من الماء من الجنابة ويوضؤه المد
جامع الترمذي
56
يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع
سنن ابن ماجه
267
يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع
سنن الدارمي
711
يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 739 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 739
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے آخری حدیث دوسری حدیثوں کے موافق مطابق ہونے کی بنا پر پیش کی ہے،
اگرچہ راوی نے اس پر انفرادی حیثیت سے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ریحانہ کے سفینہ صحابی پر بڑھاپے کی وجہ سے اعتماد نہ کرنے کو درست نہیں سمجھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 739]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث267
وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان۔
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 267]
اردو حاشہ:
(1)
صاع پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جس کی مقدار 5 رطل اور تہائی رطل ہے۔
کلو گرام کے حساب سے اس کی مقدار دوکلو سو گرام اور بعض کے نزدیک ڈھائی کلو ہے۔ (مد)
صاع کے چوتھائی کو کہتے ہیں اس کی مقدار پانچ سو پچیس گرام ہے۔
مائعات کے لیے صاع تقریباً دو لیٹر سے کچھ زائد اور مد اس سے چوتھائی سمجھا جاسکتا ہے۔

(2)
۔
غسل اور وضو کے لیے یہ مقدار ذکر کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔
مقصد محض ایک اندازہ بیان کرنا ہے۔
تاکہ بلاوجہ بہت پانی ضائع نہ کیا جائےبلکہ تھوڑے پانی کو اس طریقے سے استعمال کیا جائےکہ پوری طرح صفائی حاصل ہوجائے، البتہ صدقہ فطر وغیرہ میں صاع سے کم مقدار میں غلہ ادا کرنا درست نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 267]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 56
ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
اردو حاشہ:
1؎:
مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔

2؎:
مسلم میں ایک فرق پانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے،
فرق ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کیلو پانی آتا تھا،
ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک فرق پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے،
یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے،
ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی،
یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے،
نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں،
اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے،
بہر حال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 56]