پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ما جاء في مقدار الماء للوضوء والغسل من الجنابة
باب: وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ".
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 267]
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد (پانی) سے وضو اور ایک صاع (پانی) سے غسل کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 10 (326)، سنن الترمذی/الطہارة 42 (56)، (تحفة الأشراف: 4479)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 44 (92)، مسند احمد (5/222)، سنن الدارمی/الطہارة 22 (694) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”صاع“: ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور ”مد“: جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سفينة مولى النبي، أبو البختري، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن مطر البصري، أبو ريحانة عبد الله بن مطر البصري ← سفينة مولى النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← عبد الله بن مطر البصري | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
739
| يغتسل بالصاع يتطهر بالمد |
صحيح مسلم |
738
| يغسله الصاع من الماء من الجنابة ويوضؤه المد |
جامع الترمذي |
56
| يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع |
سنن ابن ماجه |
267
| يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع |
سنن الدارمي |
711
| يتوضأ بالمد يغتسل بالصاع |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 267 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث267
اردو حاشہ:
(1)
صاع پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جس کی مقدار 5 رطل اور تہائی رطل ہے۔
کلو گرام کے حساب سے اس کی مقدار دوکلو سو گرام اور بعض کے نزدیک ڈھائی کلو ہے۔ (مد)
صاع کے چوتھائی کو کہتے ہیں اس کی مقدار پانچ سو پچیس گرام ہے۔
مائعات کے لیے صاع تقریباً دو لیٹر سے کچھ زائد اور مد اس سے چوتھائی سمجھا جاسکتا ہے۔
(2)
۔
غسل اور وضو کے لیے یہ مقدار ذکر کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔
مقصد محض ایک اندازہ بیان کرنا ہے۔
تاکہ بلاوجہ بہت پانی ضائع نہ کیا جائےبلکہ تھوڑے پانی کو اس طریقے سے استعمال کیا جائےکہ پوری طرح صفائی حاصل ہوجائے، البتہ صدقہ فطر وغیرہ میں صاع سے کم مقدار میں غلہ ادا کرنا درست نہیں۔
(1)
صاع پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جس کی مقدار 5 رطل اور تہائی رطل ہے۔
کلو گرام کے حساب سے اس کی مقدار دوکلو سو گرام اور بعض کے نزدیک ڈھائی کلو ہے۔ (مد)
صاع کے چوتھائی کو کہتے ہیں اس کی مقدار پانچ سو پچیس گرام ہے۔
مائعات کے لیے صاع تقریباً دو لیٹر سے کچھ زائد اور مد اس سے چوتھائی سمجھا جاسکتا ہے۔
(2)
۔
غسل اور وضو کے لیے یہ مقدار ذکر کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔
مقصد محض ایک اندازہ بیان کرنا ہے۔
تاکہ بلاوجہ بہت پانی ضائع نہ کیا جائےبلکہ تھوڑے پانی کو اس طریقے سے استعمال کیا جائےکہ پوری طرح صفائی حاصل ہوجائے، البتہ صدقہ فطر وغیرہ میں صاع سے کم مقدار میں غلہ ادا کرنا درست نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 267]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 56
ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
اردو حاشہ:
1؎:
مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔
2؎:
مسلم میں ایک ”فرق“ پانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے،
فرق ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کیلو پانی آتا تھا،
ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک فرق پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے،
یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے،
ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی،
یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے،
نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں،
اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے،
بہر حال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔
1؎:
مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔
2؎:
مسلم میں ایک ”فرق“ پانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے،
فرق ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کیلو پانی آتا تھا،
ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک فرق پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے،
یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے،
ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی،
یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے،
نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں،
اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے،
بہر حال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 56]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 739
حضرت سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو فرما لیتے۔ ابن حجر رحمتہ اللہ نے کہا،وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ کہا یا وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ، کہا، ابو ریحانہ نے کہا، سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:739]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے آخری حدیث دوسری حدیثوں کے موافق مطابق ہونے کی بنا پر پیش کی ہے،
اگرچہ راوی نے اس پر انفرادی حیثیت سے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ریحانہ کے سفینہ صحابی پر بڑھاپے کی وجہ سے اعتماد نہ کرنے کو درست نہیں سمجھا۔
فوائد ومسائل:
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے آخری حدیث دوسری حدیثوں کے موافق مطابق ہونے کی بنا پر پیش کی ہے،
اگرچہ راوی نے اس پر انفرادی حیثیت سے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ریحانہ کے سفینہ صحابی پر بڑھاپے کی وجہ سے اعتماد نہ کرنے کو درست نہیں سمجھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 739]
Sunan Ibn Majah Hadith 267 in Urdu
عبد الله بن مطر البصري ← سفينة مولى النبي